١سر١ئیل اوسلو معاہدے کو منسوخ کرنے کی کوشش کیوں کر رہا ہے؟
·۱۱ دن پہلے

اندرونی بحران، توسیع پسندی، اور امریکی حمایت؟؟؟
١سر١ئیل اوسلو OSLO معاہدے کو منسوخ کرنے کی کوشش کیوں کر رہا ہے؟
قابض، جارح اور نسل پرست صہیونی رجیم اوسلو معاہدے کو منسوخ کرنے کے لیے ایک
بل پر غور کر رہی ہے، جو 1993 میں PLOامریکی سرپرستی (بل کلنٹن کے دور صدارت)
کے ساتھ طے پایا تھا۔ اس اقدام کے پیچھے متعدد وجوہات ہیں:
اول: اسرائیل فلسطینی ریاست کے قیام کو روکنا چاہتا ہے اور مغربی کنارے میں
بستیوں کو بڑھانا چاہتا ہے۔
دوم: نیتن یاہو اندرونی سیاسی بحرانوں — خاص طور پر ایران پر مسلط رمضان جنگ
میں ناکامی سے توجہ ہٹانا چاہتے ہیں۔
سوم: امریکہ کی یکطرفہ پالیسیوں (ٹرمپ کی 'امریکہ فرسٹ') نے اسرائیل کو بین
الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی جرات دی ہے۔
طوفان الاقصی اور رمضان جنگ میں ایر-ان، حزب اللہ، حماس اور انصار اللہ یمن
کی مزاحمت نے ١سر١ئیل کے بہت سے مساوات کو درہم برہم کر دیا ہے۔ ١سر١ئیل
عالمی سطح پر تنہائی اور ساتھ ہی شدید تنقید کی زد میں ہے، اور بستیوں کا
معاملہ سلامتی کونسل تک پہنچ گیا ہے۔ ان حالات میں، نیتن یاہو بین الاقوامی
ذمہ داریوں سے دستبرداری کا کھیل شروع کر رہے ہیں تاکہ اپنی سیاسی زندگی بچا
سکیں۔
شیئر کریں
تبصرے
ابھی کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے آپ لکھیں!
تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں
