سرخ لکیر عبور‘: افغان طالبان کے پاکستان کے مختلف شہروں میں ڈرون حملے اسلام آباد کے لیے کیا معنی رکھتے ہیں؟
·۸ دن پہلے
-
- اسد صہیب
- عہدہ,بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
- 2 گھنٹے قبل
- مطالعے کا وقت: 9 منٹ
جمعے کو پاکستان کے مختلف شہروں میں افغان طالبان کی جانب سے کیے گئے ڈرون
حملوں کو پاکستان کی جانب سے ناکام بنانے کا دعویٰ تو کیا گیا ہے، تاہم ان
حملوں میں بچوں سمیت کچھ افراد کے زخمی ہونے کو بعض حلقے تشویش کا باعث قرار
دے رہے ہیں۔
پاکستان کے صدر آصف زرداری نے بھی ان حملوں کی
مذمت کرتے ہوئے
کہا ہے کہ افغان طالبان نے ’سرخ لکیر‘ عبور کی ہے۔
ایکس پر جاری کیے گئے بیان میں صدرِ پاکستان کا کہنا تھا کہ ’ہم اپنے شہریوں
کو نشانہ بنائے جانے کو برداشت نہیں کریں گے۔ افغان سرزمین کو پڑوسیوں کے خلاف
دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہے۔ ہم اپنے لوگوں کا دفاع کریں گے۔‘
پاکستانی فوج کے ترجمان ادارے ’آئی ایس پی آر‘ کے مطابق 13 مارچ کو افغان
طالبان نے چند ڈرونز کے ذریعے راولپنڈی، کوہاٹ اور کوئٹہ میں حملہ کیا، جو
اپنے مطلوبہ اہداف تک نہیں پہنچے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ان ڈرونز کو ’سافٹ اور ہارڈ کِل‘ ٹیکنالوجی کے ذریعے
روکا گیا۔ تام ان ڈرونز کے ملبے کے نتیجے میں کوئٹہ میں دو بچے جبکہ کوہاٹ اور
راولپنڈی میں ایک، ایک شہری زخمی ہوا۔
[image: تصویر]
،تصویر کا ذریعہUGC
بیان میں کہا گیا ہے کہ ان حملوں کا مقصد عوام میں خوف پیدا کرنا اور ’ہمیں
دہشت گردانہ ذہنیت کی یاد دلاتا ہے جس کے ذریعے افغان طالبان کی حکومت چلتی
ہے۔‘
آئی ایس پی آر نے یہ نہیں بتایا کہ کوہاٹ، کوئٹہ اور راولپنڈی میں کن مقامات
کو نشانہ بنایا گیا، لیکن سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ عام ڈرونز تھے اور
انھیں الیکٹرانک آلات کی مدد سے ناکارہ بنایا گیا۔
دوسری جانب افغان طالبان کی وزارت دفاع نے دعویٰ کیا تھا کہ افغان فورسز نے
جمعہ کی شام فیض آباد کے نزدیک واقع اہم فوجی تنصیب 'حمزہ (کیمپ)' کو نشانہ
بنایا ہے۔
شیئر کریں
تبصرے
ابھی کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے آپ لکھیں!
تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں
