انڈیا مئی 2025 کی لڑائی میں پاکستانی کارروائی میں ؟
·۱۴ دن پہلے
6-0 دیکھنے میں تو ٹینس میچ کا سکور لگتا ہے لیکن ایک برس قبل پاکستان اور
انڈیا کی چار روزہ لڑائی کے بعد یہ ہندسے پاکستان کے ان دعوؤں کا اہم حصہ تھے
جو چھ سے دس مئی 2025 کے درمیان ہونے والی عسکری کارروائیوں میں انڈیا کو
پہنچنے والے نقصان کے حوالے سے سامنے آئے تھے۔
پہلگام میں سیاحوں پر مہلک حملے کو بنیاد بناتے ہوئے انڈیا کی جانب سے چھ اور
سات مئی کی درمیانی شب پاکستان اور اس کے زیرِ انتظام کشمیر میں متعدد مقامات
پر میزائل حملوں کے بعد نو مئی کو ایک پریس کانفرنس میں پاکستانی افواج کے
نمائندوں نے باضابطہ طور پر انڈین فضائیہ کے پانچ طیارے جن میں تین رفال، ایک
مگ 29 اور ایک ایس یو 30 شامل تھا، گرانے کا دعویٰ کیا اور 11 مئی کو ایک پریس
کانفرنس میں پاکستانی فضائیہ کے ایئروائس مارشل اورنگزیب احمد کی جانب سے اس
رات گرائے جانے والے انڈین طیاروں کی تعداد چھ بتائی گئی تھی۔
جب اس وقت انڈین حکام سے ان دعوؤں کے بارے میں پوچھا گیا تھا تو ایئر مارشل اے
کے بھارتی نے جواب دیا تھا ’جب دو ملکوں کے درمیان جنگ ہوتی ہے تو کچھ نہ کچھ
نقصان دونوں جانب ہوتا ہے ۔ ہم اپنے نقصان کا جائزہ لیں گے اور اس کی تفصیل
بتائیں گے۔‘
پاکستان اور انڈیا کے درمیان جنگ بندی کے بعد امریکی صدر نے بھی ایک تقریب کے
دوران 'انڈیا پاکستان جنگ رُکوانے' کا ذکر کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ اس
دوران 'پانچ لڑاکا طیارے مار گرائے گئے' تاہم ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا تھا کہ
یہ طیارے کس ملک کے تھے اور کس ملک نے گِرائے۔
جون 2025 میں ایک انٹرویو کے دوران انڈین مسلح افواج کے چیف آف ڈیفینس سٹاف
انیل چوہان نے پاکستان کی جانب سے طیارے گرائے جانے کے دعوؤں کے بارے میں جواب
دیتے ہوئے کہا تھا کہ 'اہم بات یہ نہیں کہ طیارے گرائے گئے بلکہ یہ کہ وہ کیوں
گرائے گئے۔ کیا غلطیاں ہوئیں، یہ باتیں اہم ہیں۔ نمبر اہم نہیں ہوتے۔'
شیئر کریں
تبصرے
ابھی کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے آپ لکھیں!
تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں
