مرکزی مواد پر جائیں

حزب اللہ نے "وعدہ اور عزم" ہاؤسنگ پروگرام کا آغاز کر دیا، 14,000 ڈالر تک امداد کا اعلان

·۸ دن پہلے

یہ پروگرام ان بے گھر خاندانوں اور شہری افراد کی مدد کے لیے ہے جن کے گھر 2024 اور 2026 کی امریکی-صہیونی جنگوں میں تباہ یا ناقابل رہائش ہو گئے تھے۔ شیخ دعموش نے انہوں نے زور دیا کہ "تعمیر نو اور بے گھر افراد کو پناہ دینا ریاست کی ذمہ داری ہے، اس معاملے کو کسی بھی سیاسی مصلحت سے الگ رکھا جانا چاہیے"۔ اس منصوبے کو ایک اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ریاست کی پناہ فراہم کرنے اور تعمیر نو کی نگرانی کی ذمہ داری کا متبادل نہیں ہے۔ وہ لوگ جو یہ سمجھتے تھے کہ حزب اللہ عوام کے زخم نہیں بھر سکتی، وہ مایوس ہوں گے"۔ انہوں نے زور دیا کہ مزاحمت اپنے عوام کو کبھی نہیں چھوڑے گی اور شہداء کی راہ پر قائم رہنے کے عہد کی تجدید کی۔

🔹 حزب اللہ کی ایگزیکٹو کونسل کے سربراہ شیخ علی دعموش نے منگل 13 اکتوبر 2026 کو بیروت کے جنوبی نواحی علاقے ضاحیہ میں ایک پریس کانفرنس کے دوران "وعدہ اور عزم" ہاؤسنگ پروگرام کے آغاز کا اعلان کیا۔ یہ پروگرام ان بے گھر خاندانوں اور شہری افراد کی مدد کے لیے ہے جن کے گھر 2024 اور 2026 کی امریکی-صہیونی جنگوں میں تباہ یا ناقابل رہائش ہو گئے تھے۔ شیخ دعموش نے گذشتہ تین سالوں میں حزب اللہ کی مزاحمتی تحریک کی قربانیوں کے باوجود بے گھر افراد کے ساتھ کھڑے رہنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ "وہ لوگ جو یہ سمجھتے تھے کہ حزب اللہ عوام کے زخم نہیں بھر سکتی، وہ مایوس ہوں گے"۔ انہوں نے زور دیا کہ مزاحمت اپنے عوام کو کبھی نہیں چھوڑے گی اور شہداء کی راہ پر قائم رہنے کے عہد کی تجدید کی۔

🔹 پروگرام کے تحت، بیروت اور اس کے جنوبی نواحی علاقوں میں اہل خاندانوں کو 14,000 ڈالر تک اور دیگر علاقوں میں 12,000 ڈالر تک امداد فراہم کی جائے گی، جس میں کرایہ اور فرنیچر کے اخراجات شامل ہوں گے۔ یہ امداد ایک سال کے دوران چار قسطوں میں تقسیم کی جائے گی، جس میں پہلی قسط بیروت اور نواحی علاقوں میں 3,500 ڈالر اور دیگر علاقوں میں 3,000 ڈالر ہوگی۔ پروگرام ان خاندانوں کی کمک کرتا ہے جنکے بنیادی گھر تباہ، ساختی طور پر نقصان زدہ یا ناقابل رہائش ہو گئے، نیز ان رہائشیوں کو جو مقبوضہ یا سرحدی علاقوں سے نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔

🔹 شیخ دعموش نے اس منصوبے کو ایک اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ریاست کی پناہ فراہم کرنے اور تعمیر نو کی نگرانی کی ذمہ داری کا متبادل نہیں ہے۔ انہوں نے بے گھر خاندانوں کے ساتھ یکجہتی کی اپیل کی اور مکان مالکان و فرنیچر فروشوں کو خبردار کیا کہ وہ امداد کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کرایہ یا قیمتیں نہ بڑھائیں۔ انہوں نے بتایا کہ حزب اللہ نے متاثرہ کمیونٹیز کا سروے کیا ہے اور اہل گھروں کی نشاندہی کے لیے خصوصی کمیٹیاں قائم کی ہیں، اور امداد سیاسی یا فرقہ وارانہ وابستگی سے قطع نظر فراہم کی جائے گی۔

🔹 اس موقع پر، انہوں نے بے گھر افراد سے نمٹنے میں لبنانی حکام کے طرز عمل پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ

"آج تک، لبنانی حکام نے عوام کی تکلیف کم کرنے کے لیے کچھ نہیں کیا، بلکہ گمراہ کن بیان بازی اور ان کے اور شہداء کے خلاف اشتعال انگیزی سے ان کے زخم مزید گہرے کیے ہیں"۔

🔹 انہوں نے زور دیا کہ "تعمیر نو اور بے گھر افراد کو پناہ دینا ریاست کی ذمہ داری ہے، اس معاملے کو کسی بھی سیاسی مصلحت سے الگ رکھا جانا چاہیے"۔

--

#حزب_اللہ_کا_وعدہ_اور_عزم_ہاؤسنگ_پروگرام #شیخ_علی_دعموش_کا_اعلان #14000_ڈالر_تک_امداد #بے_گھر_خاندانوں_کی_مدد #تعمیر_نو_ریاست_کی_ذمہ_داری

اس خبر پر آپ کا ردِعمل

شیئر کریں

WhatsAppFacebookTwitter / X

تبصرے

ابھی کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے آپ لکھیں!

تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں