مرکزی مواد پر جائیں

سیریک میں شادی کی تقریب پر امریکی میزائل سے براہِ راست حملہ کیا گیا، نیویارک ٹائمز اور روٹرز کی تصدیق

·۳ دن پہلے

امریکہ نے "محبت اور خوشی کی رات" کو سوگ میں تبدیل کر دیا، رویٹرز اور نیویارک ٹائمز کی تحقیقاتی رپورٹس اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ سیریک میں شادی کی تقریب پر امریکی میزائل سے براہِ راست حملہ کیا گیا، جس میں کم از کم 5 شہید اور 70 زخمی ہوئے۔ اسلحہ ماہرین نے تصدیق کی ہے کہ استعمال ہونے والا گلائیڈ بم "امریکی" تھا نیز اسے جنگی جرم قرار دیا ہے۔

🔵 مرکزی دعوے کی تصدیق:

🔵 رویٹرز کی رپورٹ:

رویٹرز نے 3 ستمبر 2026 کو ایک رپورٹ شائع کی جس میں چار اسلحہ ماہرین کے حوالے سے بتایا کہ سیریک میں شادی کی تقریب پر امریکی میزائل سے براہِ راست حملہ ہوا۔

🔵 نیویارک ٹائمز کی رپورٹ:

نیویارک ٹائمز نے بھی ایک علیحدہ رپورٹ میں اس امریکی حملے کی تصدیق کی۔ رپورٹ کے مطابق، امریکہ نے جنوبی ایران کے شہر کوہستک میں ایک شادی کی تقریب کو نشانہ بنایا۔ حملے میں ایک 6 سالہ بچے سمیت 5 افراد شہید اور 70 زخمی ہوئے۔

🔵 اسلحہ ماہرین کا تجزیہ:

چار اسلحہ ماہرین میں سے تین نے امکان ظاہر کیا کہ استعمال ہونے والا میزائل امریکی تھا۔ نیویارک ٹائمز نے حملے کے بعد کی فوٹیج کو اسلحہ ماہر ٹریور بال کو فراہم کیا، جنہوں نے اسے امریکی گلائیڈ بم کے اجزاء کے طور پر شناخت کیا۔

🔵 امریکی عہدیداروں کا اعتراف:

دو امریکی عہدیداروں نے رویٹرز کو بتایا کہ انہوں نے کوہستک کے علاقے میں ایک مواصلاتی ٹاور کو نشانہ بنایا تھا، جو شادی کی تقریب کی جگہ سے صرف 135 میٹر کے فاصلے پر تھا۔

🔵 متبادل ذرائع:

دیگر خبر رساں اداروں جیسے ایکسپریس ٹریبیون، پریس ٹی وی، اور ڈیلی صباح نے بھی رویٹرز کی اس رپورٹ کی تصدیق کی ہے۔

🔵 عینی شاہدین کے ہولناک بیان:

مہمانوں میں سے ایک خاتون، مطلعہ، نے حملے سے پہلے ایک خوشگوار سیلفی پوسٹ کی تھی، لیکن حملے کے بعد انہوں نے ویڈیو پوسٹ کی جس میں انہوں نے لکھا: "آج کی رات محبت اور خوشی کی رات ہونی تھی، لیکن شادی سوگ میں بدل گئی"۔ ایک فوٹوگرافر نے بتایا کہ لوگ چھوٹے بچوں کو اٹھائے ہوئے تھے اور انہیں پک اپ ٹرکوں میں اسپتال پہنچانے کی کوشش کر رہے تھے۔

🔵 ایرانی حکام کا موقف:

ایرانی حکام نے اس واقعے کو جنگی جرم قرار دیا ہے اور ریڈ کریسنٹ سوسائٹی نے بین الاقوامی فوجداری عدالت سے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

🔵 یہ کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں:

کوہستک کا قتل عام چوتھا واقعہ ہے جس میں امریکی فضائی حملوں نے شہریوں کو نشانہ بنایا، جس میں میناب کا اسکول، لامرد میں رہائشی علاقہ، اور قشم جزیرے پر ایک گھر شامل ہیں۔

--

ویڈیو میں شہداء کی نماز جنازہ میں شیعہ سنی وحدت کا بھرپور مظاہرہ

شیئر کریں

WhatsAppFacebookTwitter / X

تبصرے

ابھی کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے آپ لکھیں!

تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں