امریکی حملوں نے دو دہائیوں میں چھ شادیوں کو سوگ میں تبدیل کیا، افغانستان سے ایران تک خونی شادیوں کا سلسلہ
گذشتہ دو دہائیوں میں افغانستان، عراق، یمن اور ایران میں امریکی حملوں نے چھ شادی کی تقریبات کو نشانہ بنایا، جن میں سینکڑوں شہری، خاص طور پر خواتین اور بچے شہید ہوئے۔ جمہوری اسلامی ایران نے اس تازہ ترین جنایت، حملے کا سخت جواب دینے کا عزم کیا ہے اور دنیا کو خبردار کیا ہے کہ اس طرح کے ظالمانہ عمل کو معمول نہیں بننے دینا چاہیے۔
🔶 خونی شادیوں کی تاریخ:
گزشتہ دو دہائیوں میں جنگی جرائم اور دہشتگردی میں ملوث امریکی فوج نے افغانستان (2002، 2008، 2008)، عراق (2004)، یمن (2013) اور اب ایران (2026) میں شادی کی تقریبات کو نشانہ بنایا ہے اور اسے سوگ میں بدل دیا۔ ان تمام حملوں میں سینکڑوں شہری، خاص طور پر خواتین اور بچے مارے گئے ہیں۔
🔶 ایران میں تازہ حملہ:
یکم ستمبر 2026 کو ہرمزگان میں ایک شادی کی تقریب پر امریکی حملے میں شہری شہید اور درجنوں زخمی ہوئے۔ ایران نے اس حملے کی شدید مذمت کی ہے اور ذمہ داروں کو سخت سزا دینے کا عزم کیا ہے۔
🔶 عالمی انتباہ:
یہ حملے امریکی جنگی جرائم، دہشتگردی کا ایک مستقل نمونہ بن چکے ہیں۔ دنیا خاص کر اقوام متحدہ، عالمی عدالت انصاف، آئی سی سی ICC، انسانی حقوق کے اداروں کو اس ظالمانہ عمل کو معمول بننے سے روکنا چاہیے، ورنہ یہ سلسلہ جاری رہے گا۔
#خونی_شادی #شادی #سوگ #امریکی_حملے #ایران #افغانستان #عراق #یمن #امریکہ #بچے #خواتین #شہری_اموات #انسانی_حقوق #خلاف_ورزیاں #اقوام_متحدہ #عالمی_عدالت_انصاف ICC#
شیئر کریں
تبصرے
ابھی کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے آپ لکھیں!
تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں
