نصابی کتب سے 'فلسطین' کا لفظ ہٹانے کی سازش، جیریمی گرین اسٹاک کا انکشاف
🔹 سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قائم کردہ ایک ادارے "بورڈ آف پیس" نے فلسطینی اتھارٹی (PA) کے پاس یہ تجویز لے کر جانے کا کام سونپا تھا کہ وہ اسکول کی نصابی کتب سے "فلسطین" کا لفظ ہٹا کر اس کی جگہ یہودی نام "سامریہ" (Samaria) استعمال کریں۔
🔹 یہ انکشاف جیریمی گرین اسٹاک نے کیا، جو 1998 سے 2003 تک برطانیہ کے اقوام متحدہ میں سفیر رہے۔ انہوں نے بتایا کہ بلیئر نے فلسطینی اتھارٹی کو یہ پیغام دیا کہ اگر وہ "بورڈ آف پیس" کی طرف سے غزہ کی جنگ ختم کرنے کے لیے قابض رجیم اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کرنے کے قابل ایک جائز پارٹنر کے طور پر تسلیم کیے جانا چاہتی ہے تو اسے تعلیمی مواد سے "فلسطین" کا لفظ ہٹانا ہوگا۔

🔹 گرین اسٹاک نے ڈیوڈ ہرسٹ پوڈ کاسٹ پر ایک وسیع انٹرویو میں بتایا کہ فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے اس درخواست کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ بلیئر کو اپنے نئے عہدے میں مشکلات کا سامنا ہے، اور انہوں نے اس حقیقت پر حیرت کا اظہار کیا کہ "بورڈ آف پیس" نصابی کتب میں اس طرح کی تبدیلی کی درخواست کر سکتا ہے۔
🔹 تاہم، بلیئر کے ترجمان نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے اسے "مکمل من گھڑت" قرار دیا۔

🔹 گرین اسٹاک نے بلیئر کے کردار پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عراق اور فلسطین پر ان کے موقف کی وجہ سے وہ متعصب نظر آئیں گے اور انہیں مشکلات کا سامنا ہوگا۔ انہوں نے "بورڈ آف پیس" کو ایک "غیر حقیقی اور من مانی کمیٹی" قرار دیا۔
شیئر کریں
تبصرے
ابھی کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے آپ لکھیں!
تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں
