مرکزی مواد پر جائیں

ظہران میں آرامکو عمارت میں آگ، ریاض میں کروز میزائل روکنے کا دعویٰ

·۷ دن پہلے

یمن کی تنبیہ کے بعد سعودی رجیم کے شہر ظہران میں آرامکو کی انتظامی عمارت کو نشانہ بنایا گیا، جس سے آگ بھڑک اٹھی، جبکہ یمنی مسلح افواج نے امریکی و صہیونی پراکسی سعودی رجیم کو خبردار کیا ہے کہ صنعا پر حملے کی صورت میں ریاض میں سخت جواب دیا جائے گا۔

🔹 امریکی و صہیونی پراکسی سعودی رجیم کی وزارت توانائی نے بدھ کے روز اعلان کیا کہ مشرقی سعودی عرب کے شہر ظہران میں سرکاری تیل کمپنی "آرامکو" Aramco سے منسلک ایک انتظامی عمارت میں منگل کی شام نشانہ بنائے جانے کے بعد "محدود آگ" بھڑک اٹھی۔ وزارت کے مطابق آگ سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور متعلقہ حکام نے واقعے پر قابو پا لیا۔ اسی دوران، سعودی سرکاری خبر رساں ایجنسی ایس پی اے SPA نے سول ڈیفنس کے حوالے سے بتایا کہ ریاض میں ایک کروز میزائل روکنے کے بعد گرنے والے ملبے سے چار افراد زخمی ہوئے اور محدود مادی نقصان ہوا۔ سعودی زیرقیادت اتحاد نے الخرج گورنریٹ اور حراد علاقے میں کروز میزائلوں کو روکنے اور تباہ کرنے کا دعویٰ کیا، جبکہ ریاض میں پیشگی وارننگ کے سائرن بجائے گئے۔

🔹 یہ پیش رفت یمنی مسلح افواج کی جانب سے تجاوز کرنے والی سعودی رجیم کو دی گئی تنبیہ کے بعد سامنے آئی۔ یمنی مسلح افواج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل یحییٰ سریع نے خبردار کیا تھا کہ اگر سعودی رجیم نے یمنی دارالحکومت صنعا کو نشانہ بنایا تو ریاض اور ظہران میں آرامکو ریفائنری کے ساتھ ساتھ ریاض کے شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے کو بھی نشانہ بنایا جائے گا۔ انہوں نے سعودی آرامکو کی تیل کی تنصیبات کے قریب ملازمین اور شہریوں سے مطالبہ کیا کہ وہ دمام اور ریاض میں کمپنی کی تنصیبات سے دور رہیں اور انہیں خالی کریں، اور انہیں "جائز اہداف" قرار دیا۔

🔹 تازہ ترین کشیدگی گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران یمن کے خلاف سعودی جارحیت کے تسلسل کے بعد سامنے آئی، جس میں صنعا، دھمار، تعز، عمران، لحج، الجوف، مآرب، صعدہ اور الحدیدہ کے صوبوں میں بمباری کی اطلاع ملی۔ یمنی رپورٹوں کے مطابق ان حملوں میں شہریوں کی شہادتیں اور زخمی ہوئے۔ الجوف صوبے میں سعودی جنگی طیاروں نے الحزم اور المصلوب کو نشانہ بنایا، جبکہ صعدہ صوبے کے جنوب مغرب میں مران ضلع اور سرحدی ضلع غمر میں مواصلاتی نیٹ ورک کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ یمنی مسلح افواج سعودی حملوں کے جواب میں اپنے جوابی، انتقامی اقدامات جاری رکھے ہوئے ہیں اور ایئر لائنز، ہوابازی کے ماہرین، ملازمین اور مسافروں کو سعودی فضائی حدود اور ہوائی اڈوں کے لیے پروازیں چلانے کے خلاف خبردار کر رہی ہیں۔

اس خبر پر آپ کا ردِعمل

شیئر کریں

WhatsAppFacebookTwitter / X

تبصرے

ابھی کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے آپ لکھیں!

تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں