یمن پر سعودی جارحیت محمد بن سلمان کے وژن 2030 کے لیے خطرہ، رپورٹ
🔹 وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق، متجاوز و جابر سعودی رجیم کی یمن پر نئی جارحیت ولی عہد محمد بن سلمان کے لیے سلامتی اور معاشی چیلنجز پیدا کر رہی ہے، جس سے ان کے بلند و بالا وژن 2030 کی تبدیلی پیچیدہ ہونے کا خطرہ ہے۔ سعودی عہدیداروں نے فضائی دفاعی انٹرسیپٹرز کے ختم ہونے کے بارے میں انتباہ دیا ہے، غیر ملکی سرمایہ کاری اہداف سے پیچھے رہ گئی ہے، اور بڑے ترقیاتی منصوبے رک گئے ہیں یا زیرِ جائزہ ہیں۔ ان عوامل کی وجہ سے بڑھتی ہوئی دفاعی لاگت سلطنت کی مالیات پر مزید بوجھ ڈال سکتی ہے۔

🔹 رپورٹ کے مطابق، یہ دباؤ سیاحت اور مصنوعی ذہانت کے عزائم کے ساتھ ساتھ ان بڑے بین الاقوامی مقابلوں تک بھی پھیل گیا ہے جن کی میزبانی ریاض کی تیاری کر رہا ہے۔ ایم بی ایس کے عزائم داؤ پر لگنے کے ساتھ، سعودی رجیم یمن پر اپنی نئی جارحیت ختم کرنے کے لیے تیزی سے سفارتی راستہ تلاش کر رہا ہے۔

🔹 یاد رہے جمہوری اسلامی ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سعودی ہم منصب فیصل بن فرحان کے ساتھ اتوار کو ٹیلیفونک گفتگو میں سعودی درخواست کا مثبت جواب دیتے ہوئے سعودی عرب اور یمن کے درمیان مذاکرات کے آغاز اور بحران کے سیاسی حل میں مدد کی ایران کی آمادگی/تیاری کا اظہار کیا۔ عراقچی نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فوجی نقطہ نظر پر اصرار اور سیاسی حل کو نظر انداز کرنا صورتحال کو مزید خراب کرے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ خطے کے بحرانوں کا کوئی فوجی حل نہیں ہے اور ایران ہر ممکن مدد فراہم کرنے کو تیار ہے۔ یہ پیشکش خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں ایران کی سفارتی کوششوں کا حصہ ہے
--
#یمن #سعودی_عرب #کشیدگی #ریاض #یمن_پر_سعودی_جارحیت #وژن_2030_کو_خطرہ #فضائی_دفاعی_انٹرسیپٹرز_ختم #غیر_ملکی_سرمایہ_کاری_پیچھے #ترقیاتی_منصوبے_رک_گئے #سفارتی_راستہ_کی_تلاش
شیئر کریں
تبصرے
ابھی کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے آپ لکھیں!
تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں
