مرکزی مواد پر جائیں

فیصلہ کن تاریخ : 30 ستمبر کو تمام غیر ملکی (قابض) افواج کا انخلا حتمی ہے، فضائی خودمختاری بحال ہوگی، عراقی قومی سلامتی کے مشیر الاعرجی

·۵۸ منٹ پہلے

عراقی قومی سلامتی کے مشیر قاسم الاعرجی نے اعلان کیا کہ 30 ستمبر عراق سے تمام غیر ملکی (قابض) افواج کے انخلا کی فیصلہ کن تاریخ ہوگی، اور زور دیا کہ عراق کو اپنی فضائی حدود پر مکمل کنٹرول حاصل ہونا چاہیے اور کوئی غیر ملکی فوجی اس کی سرزمین پر موجود نہیں رہنا چاہیے۔ انہوں نے مسلح دھڑوں کے ہتھیاروں کو ریاستی کنٹرول میں لانے اور عوامی تحریک افواج (حشد الشعبی) کو باقاعدہ بنانے پر بھی روشنی ڈالی۔

🔹 بین الاقوامی افواج کا انخلا اور فضائی خودمختاری:

عراقی قومی سلامتی کے مشیر قاسم الاعرجی نے المیادین کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ 30 ستمبر عراق سے تمام بین الاقوامی اتحادی افواج، بشمول امریکی فوجیوں، کے انخلا کے لیے ایک فیصلہ کن تاریخ ہوگی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عراق کو اپنی فضائی حدود پر مکمل کنٹرول حاصل ہونا چاہیے اور کوئی غیر ملکی (قابض) مسلح فورس اس کی سرزمین پر موجود نہیں رہنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ عراق کو اب بین الاقوامی فوجی موجودگی کی ضرورت نہیں ہے، اور فوجی موجودگی کا خاتمہ اسٹریٹجک فریم ورک معاہدے کے تحت واشنگٹن کے ساتھ سیاسی تعلقات اور انٹیلیجنس شیئرنگ کو جاری رکھنے سے نہیں روکے گا۔

🔹 مسلح دھڑوں کے ہتھیاروں کو ریاستی کنٹرول میں لانا:

الاعرجی نے کہا کہ حکومت مسلح دھڑوں کے ساتھ براہ راست اور اعلیٰ سطحی مذاکرات میں مصروف ہے تاکہ انکے حقوق کو یقینی بنایا جا سکے جبکہ سب کو ریاست کے اختیار میں لایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دھڑوں کے ڈرونز اور بیلسٹک میزائلوں کو ریاستی کنٹرول میں منتقل کیا جانا چاہیے اور حکومتی فیصلے کے تحت عراق کے دفاع کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ آئین کے فریم ورک سے باہر کوئی بھی ہتھیار ناجائز ہے، سوائے آئین میں مذکور علاقائی گارڈ کے۔

🔹 عوامی تحریک افواج (حشد الشعبی) کا دفاع:

الاعرجی نے حشد الشعبی کو ایک خالص عراقی فورس قرار دیا جو 2014 میں داعش کے بحران کے دوران ابھری۔ انہوں نے کہا کہ اس فورس نے پارلیمنٹ کی طرف سے باضابطہ طور پر تسلیم کیے جانے سے پہلے ہی میدان جنگ میں اپنا لوہا منوایا تھا۔ انہوں نے کہا کہ عوامی تحریک افواج کا قانون، جو 2016 میں منظور کیا گیا تھا، خدمات اور پنشن کو منظم کرنے کے لیے پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا، اور اس کی منظوری ایک خالص عراقی اندرونی معاملہ ہے۔

🔹 علاقائی سلامتی اور سرحدی امور:

الاعرجی نے کہا کہ عراق شام کے ساتھ سیکیورٹی رابطے جاری رکھے ہوئے ہے اور ترکی کی کردستان ورکرز پارٹی کے ساتھ نئی تفہیم کو ایک مثبت قدم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ عراق کی مشرقی سرحد پر ایران سے اپوزیشن گروپس اور علیحدگی پسند دھڑے موجود نہیں ہیں، اور وفاقی سرحدی افواج نے تعیناتی کر دی ہے۔

🔹 کابینہ کی تشکیل اور مستقبل کا وژن:

الاعرجی نے وضاحت کہ وہ کسی سیکیورٹی وزارت کے امیدوار نہیں ہیں، اور توقع ہے کہ کابینہ کی تشکیل 30 ستمبر کے بعد مکمل ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت مسلح دھڑوں کو ریاستی اداروں میں ضم کرنے کی کوشش کرتی ہے اور تصادم اور خونریزی کو مسترد کرتی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ عراق کے سیاسی اور سیکیورٹی نقطہ نظر کو بالآخر ایک خودمختار، شہری ریاست کی خدمت کرنی چاہیے۔

--


#عراق #خودمختاری #30_ستمبر #قاسم_الاعرجی #فضائی_خودمختاری #حشد_الشعبی #مسلح_دھڑے #امریکی_انخلا

شیئر کریں

WhatsAppFacebookTwitter / X

تبصرے

ابھی کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے آپ لکھیں!

تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں