قشم میں 5 دھماکے: امریکہ نے ایران کے خلاف خفیہ حملے کی تصدیق کر دی
قشم پر پانچ زوردار دھماکے سنے گئے، جنکی ایرانی حکام نے سرکاری طور پر تصدیق نہیں کی۔ امریکی حکام نے وال اسٹریٹ جرنل کو بتایا کہ امریکی افواج نے قشم پر حملے کیے، جو گزشتہ کئی ہفتوں کے خفیہ محدود حملوں کا حصہ ہیں۔ ٹرمپ نے کہا کہ انتخابات کے بعد ایران پر حملے کا کوئی ارادہ نہیں، لیکن مذاکرات ناکام ہونے پر دوبارہ لڑائی کا امکان ظاہر کیا۔ رہبر معظم نے کسی بھی خطرے کا بغیر کسی جغرافیائی پابندی کے جواب دینے کی ہدایت دے رکھی ہے۔ قشم آبنائے ہرمز کے قریب ایران کا سب سے بڑا جزیرہ ہے، جہاں زیرِ زمین میزائل کمپلیکس، بحری اڈہ اور بڑا پانی صاف کرنے کا کارخانہ موجود ہے۔ خلیجی ممالک کو خدشہ ہے کہ امریکہ-ایران کی نئی کشیدگی انکے بنیادی ڈھانچے، ہوائی اڈوں اور توانائی کی سہولیات کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔
🔹 دہشت گرد امریکی حکام نے تصدیق کی ہے کہ امریکی افواج نے پیر، 2 نومبر 2026 کی شب ایران کے جزیرہ قشم پر فضائی حملے کیے، جو آبنائے ہرمز کے قریب واقع ہے۔ ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق، جزیرے پر کم از کم پانچ زوردار دھماکے سنے گئے، اور مقامی رہائشیوں نے دو طیاروں کو جزیرے کے اوپر پرواز کرتے ہوئے دیکھا۔ وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق، یہ حملے گذشتہ کئی ہفتوں کے دوران واشنگٹن کی جانب سے ایران کے خلاف خفیہ طور پر کیے گئے محدود حملوں کا حصہ ہیں، جنہیں جان بوجھ کر خفیہ رکھا گیا۔ یہ بیانات اس وقت سامنے آئے ہیں جب چند گھنٹے بعد یہ رپورٹ شائع ہوئی کہ بندر لنگہ کے علاقے میں سمندر سے کئی خوفناک دھماکوں کی آواز سنائی دی۔
🔹 امریکی حکام نے حملوں کو "دفاعی" قرار دیا اور کہا کہ یہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کے اوپر ایک امریکی طیارے پر فائرنگ کے جواب میں کیے گئے۔ ایکسیوس نے ایک امریکی دہشتگرد حکومتی اہلکار کا حوالہ دیا کہ یہ حملہ ایران کے امریکی ڈرون پر فائرنگ کے جواب میں کیا گیا۔ یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے جب امریکہ کے وحشی صدر ٹرمپ نے تہران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کی امید ظاہر کی اور کہا کہ انتخابات کے بعد ایران پر حملے کا کوئی ارادہ نہیں۔ ایران نے اقوام متحدہ میں شکایت درج کرائی ہے، یاد رہے ایک روز قبل رہبر معظم انقلاب امام مجتبی خامنہ ای نے کسی بھی خطرے کا بغیر کسی جغرافیائی پابندی کے جواب دینے کی ہدایت دی ہے۔
🔹 اب تک، مقامی حکام اور ذمہ دار اداروں نے بندر لنگہ کے پانیوں میں ہونے والے دھماکوں کی اصل نوعیت کا باضابطہ اعلان نہیں کیا ہے، اور علاقے میں ان دونوں واقعات کے ابعاد کی تحقیقات جاری ہیں۔
وسط مدتی انتخابات اور خطے پر اثرات:
🔹 یہ حملے امریکی وسط مدتی انتخابات سے چند گھنٹے قبل ہوئے، جہاں ٹرمپ نے بظاہر پرامن مذاکرات کی امید ظاہر کی تھی۔ یہ تضاد ظاہر کرتا ہے کہ واشنگٹن ایک ہی وقت میں مذاکرات اور فوجی کارروائی دونوں جاری رکھے ہوئے ہے۔ خلیجی ممالک نے بھی اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور ممکنہ ایرانی جوابی کارروائی کے خدشے میں اپنی سکیورٹی تیاریاں بڑھا دی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق، خلیجی ممالک کو خدشہ ہے کہ امریکہ-ایران کی نئی کشیدگی انکے بنیادی ڈھانچے، ہوائی اڈوں اور توانائی کی سہولیات کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔
--
#قشم_پانچ_دھماکے #امریکہ_خفیہ_حملے_قشم #ٹرمپ_انتخابات_کے_بعد_حملہ_نہیں #ایران_اقوام_متحدہ_شکایت #بغیر_پابندی_جواب_کا_عزم #آبنائے_ہرمز_خلیجی_ممالک_سکیورٹی #رہبر_معظم_انقلاب #امام_مجتبی_خامنہ_ای
شیئر کریں
تبصرے
ابھی کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے آپ لکھیں!
تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں
