مرکزی مواد پر جائیں

قابض اسرائیل کا شہداء الاقصیٰ اسپتال پر مجرمانہ حملہ، غزہ میں شہداء کی تعداد 73,440 تک پہنچ گئی

·۹ دن پہلے

👈 حماس نے کہا کہ وہ مکمل طاقت کے ساتھ قبضے کے خاتمے کی کوشش کرے گا۔ عرب اور اسلامی ممالک پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے فلسطینیوں کی مدد کے لیے کوئی عملی اقدام نہیں کیا۔ اسپتال کے ڈائریکٹر نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ غزہ میں صحت کے مراکز پر مجرمانہ صہیونی حملوں کو روکنے کے لیے اقدامات کرے۔

🔶 غاصب و جارحیت پسند صہیونی رجیم نے شہداء الاقصیٰ اسپتال کو نشانہ بنایا:

نسل پرست، قابض صہیونی رجیم کی دہشتگرد فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ غزہ کے مرکز میں واقع شہداء الاقصیٰ اسپتال پر فضائی حملے میں القسام بریگیڈ کے ایک کمانڈر کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ تاہم، اسپتال کے ذرائع نے بتایا کہ حملے میں اسپتال کے پیچھے زچگی وارڈ کے قریب دواخانہ (میڈیکل اسٹور) کو نشانہ بنایا گیا۔ اسپتال کے ڈائریکٹر نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ غزہ میں صحت کے مراکز پر صہیونی دہشتگردی، مجرمانہ حملوں کو روکنے کے لیے اقدامات کرے۔

🔶 حماس کے سیاسی دفتر کے رکن: ہم مکمل طاقت کے ساتھ قبضے کے خاتمے کی کوشش کریں گے:

فلسطین کی مزاحمتی تحریک حماس کے سیاسی دفتر کے سینئر رکن غازی حمد نے کہا کہ حماس مکمل طاقت کے ساتھ قبضے کے خاتمے کی کوشش کرے گی اور اپنے قومی منصوبے سے کبھی دستبردار نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ حماس غزہ معاہدے پر پابند ہے، لیکن غاصب صہیونی رجیم اس معاہدے کو خطرے میں ڈال رہا ہے اور نسل کشی عروج پر ہے۔ حمد نے کہا کہ اس معاہدے کا مقصد نسل کشی کو روکنا تھا اور اس نے اس کی رفتار کو کم کرنے میں کچھ کامیابی حاصل کی ہے۔ انہوں نے عرب اور اسلامی ممالک پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے فلسطینیوں کی مدد کے لیے کوئی عملی اقدام نہیں کیا۔ حمد نے کہا کہ حماس نے غزہ میں حکومت کی باگ ڈور اور ہتھیاروں کے معاملے پر رضامندی ظاہر کی ہے تاکہ نسل کشی کو روکا جا سکے، لیکن یہ ایک عارضی اور جبری صورتحال ہے، جبکہ ان کا قطب نما ہمیشہ اپنے حقوق کی طرف رہے گا۔

🔶 غزہ میں شہداء کی تعداد 73,440 تک پہنچ گئی:

فلسطینی وزارت صحت نے اعلان کیا ہے کہ 7 اکتوبر 2023 سے اب تک غزہ میں شہداء کی تعداد 73,440 اور زخمیوں کی تعداد 174,472 تک پہنچ گئی ہے۔ وزارت نے بتایا کہ گذشتہ 48 گھنٹوں کے دوران 10 شہداء کے جسد اور 18 زخمیوں کو اسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے، جبکہ ایک شہید کے جسد کو ملبے سے نکالا ہے۔ وزارت کے مطابق، 11 اکتوبر کو نام نہاد جنگ بندی کے بعد سے 1,313 شہید اور 4,361 زخمی ہوئے ہیں، اور 815 لاشیں ملبے سے نکالی گئی ہیں۔

شیئر کریں

WhatsAppFacebookTwitter / X

تبصرے

ابھی کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے آپ لکھیں!

تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں