کووڈ سے بڑا بحران: ایران جنگ نے امریکہ میں چھوٹے کاروباروں کی کمر توڑ دی
امریکہ کی ایران کے خلاف جنگ نے چھوٹے کاروباروں کو دیوالیہ کر دیا ہے۔ بڑھتی لاگتیں، ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ اور سپلائی چین میں خلل کے باعث لاکھوں چھوٹے کاروبار بحران کا شکار ہیں۔ ماہرین اسے کووڈ COVID سے بڑا بحران قرار دے رہے ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ جنگ کو ایک "عارضی معاشی دھچکا" قرار دے رہی ہے اور دعویٰ کر رہی ہے کہ جنگ ختم ہوتے ہی مہنگائی خود بخود کم ہو جائے گی۔ تاہم، ماہرین کے مطابق، قیمتیں جو ایک بار بڑھنے کے بعد کم نہیں ہوتیں—مسلسل بڑھ رہی ہیں۔
واشنگٹن: امریکہ کی ایران کے خلاف جاری جنگ نے جہاں صارفین پر افراط زر کے ذریعے مہنگائی کا بوجھ ڈالا ہے، وہیں ملک کے چھوٹے کاروباروں کی کمر توڑ دی ہے۔ تازہ رپورٹس کے مطابق، بڑھتی ہوئی لاگتوں، ڈیزل کی قیمتوں میں دوگنا اضافے اور سپلائی چین میں شدید خلل کے باعث لاکھوں چھوٹے کاروبار——جن میں مالک ہی واحد ملازم ہوتا ہے——دیوالیہ ہونے کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔

📉 'کووڈ سے بھی بڑا بحران'
سی این این CNN کی ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق، امریکی کاروباری مالکان اس صورتحال کو "کووڈ سے بھی بڑا بحران" قرار دے رہے ہیں. یونیورسٹی آف ڈینور کے سپلائی چین پروگرام کے ڈائریکٹر جیک بفنگٹن کا کہنا ہے کہ "یہ کووڈ سے کہیں بڑا مسئلہ ہے، کیونکہ یہ ایک توانائی کا بحران ہے۔"
📊 اعداد و شمار کی تصویر
امریکی چھوٹے کاروباروں کی صورتحال کو سمجھنے کے لیے چند اہم اعداد و شمار پیش ہیں:
لاگتوں میں اضافہ: ایک سروے کے مطابق، 75.6 فیصد کاروباری مالکان نے بتایا کہ ان کی لاگتیں گذشتہ سال کے مقابلے میں بڑھ گئی ہیں.
نقدی کا بحران: 62.9 فیصد چھوٹے کاروباروں کے پاس صرف 3 ماہ سے بھی کم آپریشنل نقدی موجود ہے.
قیمتوں میں اضافے کا رجحان: 34 فیصد کاروباری مالکان اگلے تین ماہ میں اپنی قیمتیں بڑھانے کا ارادہ رکھتے ہیں، جو جولائی 2022 کے بعد سب سے زیادہ شرح ہے.
شرح نمو میں کمی: بینک آف امریکہ انسٹی ٹیوٹ کے مطابق، اپریل میں چھوٹے کاروباروں کے منافع میں اضافے کی رفتار 2 سالوں میں سب سے سست رہی.
🚢 ڈیزل کی قیمتوں میں دوگنا اضافہ
جنگ کے آغاز سے اب تک ڈیزل کی قیمتوں میں دوگنا اضافہ ہو چکا ہے.

💬 کاروباری مالکان کی آوازیں
نارتھ کیرولائنا میں کافی کی تقسیم کار کمپنی کے سی ای او جیف ووجٹا کا کہنا ہے کہ "شپنگ میں رکاوٹوں، کنٹینرز کی کمی اور کھاد کی بڑھتی قیمتوں کے باعث ہم ایک ایسے دور سے گزر رہے ہیں جس کا پہلے کبھی سامنا نہیں ہوا۔"
میزوری میں تعمیراتی کمپنی کے مالک بروس جوواگ کا کہنا ہے کہ "ایک چھوٹے خاندانی کاروبار کے لیے صرف اپنے دروازے کھلے رکھنا ہی ایک ناقابلِ یقین چیلنج بن گیا ہے۔ یہ ایسی لڑائی ہے جو پہلے کبھی نہیں دیکھی۔"
🏛️ حکومتی بیانات اور حقیقت
ٹرمپ انتظامیہ جنگ کو ایک "عارضی معاشی دھچکا" قرار دے رہی ہے اور دعویٰ کر رہی ہے کہ جنگ ختم ہوتے ہی مہنگائی خود بخود کم ہو جائے گی۔ تاہم، ماہرین کے مطابق، بنیادی افراط زر (core inflation) گزشتہ ماہ اپریل کے بعد سب سے زیادہ بڑھا ہے، اور خدمات کی قیمتیں——جو ایک بار بڑھنے کے بعد کم نہیں ہوتیں——مسلسل بڑھ رہی ہیں۔

📌 نتیجہ
امریکی چھوٹے کاروبار، جو ملک کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھے جاتے ہیں، اس وقت ایک ایسے طوفان سے گزر رہے ہیں جس کا کوئی واضح انجام نظر نہیں آتا۔ بڑھتی لاگتیں، کم ہوتی مانگ اور غیر یقینی صورتحال نے انہیں "زندہ رہنے کی جنگ" میں دھکیل دیا ہے۔
--
#ایران_جنگ #امریکی_معیشت #چھوٹے_کاروبار #دیوالیہ #افراط_زر #کووڈ_سے_بڑا_بحران #معاشی_بحران #امریکہ
شیئر کریں
تبصرے
ابھی کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے آپ لکھیں!
تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں
