یمن کے مغربی ساحل کی لڑائی داخلی ہے، سمندری نیویگیشن کے لیے خطرہ نہیں، مجاہدین انصاراللہ
انصاراللہ کے سیاسی دفتر کے رکن حزام الاسد نے واضح کیا ہے کہ یمن کے مغربی ساحل پر جاری لڑائی ایک داخلی اور دفاعی کارروائی ہے جس کا مقصد یمنی سرزمین کو سعودی حمایت یافتہ قابض افواج سے واپس لینا ہے، اور اس سے بحیرہ احمر کی بین الاقوامی سمندری نیویگیشن کو کوئی خطرہ نہیں۔ انہوں نے ایرانی پاسداران انقلاب کے افسران کی موجودگی کے دعووں کو مسترد کیا (حوثی مجاہدین کی طاقت اور برق رفتار فتوحات کو کم اثر اور کمزور پیش کرنے کی ناکام کوشش) اور خبردار کیا کہ اگر سعودی عرب ناکہ بندی نہیں اٹھاتا تو فوجی کارروائیوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

🔹 یمن کے مغربی ساحل پر کارروائی داخلی اور دفاعی ہے:
انصاراللہ کے سیاسی دفتر کے رکن حزام الاسد نے جمعرات کو المیادین کو بتایا کہ یمن کے مغربی ساحل کے ساتھ جاری لڑائی ایک داخلی کارروائی ہے جس کا مقصد یمنی سرزمین کی بحالی ہے اور یہ سمندری نیویگیشن کے لیے خطرہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ مغربی ساحلی علاقے یمنی سرزمین ہیں اور یمنیوں کو حق ہے کہ وہ انہیں قابض سعودی حمایت یافتہ افواج سے واپس لیں۔ یمنی مسلح افواج کا ان علاقوں میں داخلہ مقامی باشندوں کی طرف سے بڑے پیمانے پر خوش آمدید کہا گیا۔

🔹 ایرانی افواج کی موجودگی کے دعووں کی تردید:
الاسد نے ان دعووں کو مسترد کر دیا کہ ایرانی سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے افسران یمنی افواج کے ساتھ موجود ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ "مجاہدین یمن اور اسکی آبادی کے لوگ ہیں، اس حقیقت کو مسخ کرنے کی کوششوں اور جارحیت کے ترجمانوں کی طرف سے آنے والی میڈیا مبالغہ آرائی کے باوجود۔" انہوں نے زور دیا کہ معاملہ یمنی عوام سے متعلق ہے اور فوجی کارروائی داخلی نوعیت کی ہے اور اس کا مقصد یمنی سرزمین پر کنٹرول قائم کرنا ہے۔

🔹 بحیرہ احمر کی نیویگیشن کو خطرہ نہیں:
الاسد نے کہا کہ یمن کی فوجی کارروائیاں بین الاقوامی سمندری ٹریفک کو نشانہ نہیں بناتیں، اور نوٹ کیا کہ غزہ کی حمایت کی مہم کے دوران، خطرہ خاص طور پر اسرائیلی بحری جہازوں کی طرف تھا۔ انہوں نے زور دیا کہ مغربی ساحل کے ساتھ موجودہ لڑائی کو یمن کے داخلی تنازعے اور اپنی سرزمین پر کنٹرول دوبارہ حاصل کرنے کی کوششوں کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔

🔹 سعودی سے منسلک مقامات پر کنٹرول:
الاسد نے کہا کہ یمنی مسلح افواج (مجاہدین انصار اللہ) نے حالیہ کارروائیوں کے دوران شدید لڑائی لڑی اور کئی فوجی اڈوں پر کنٹرول حاصل کر لیا جو مغربی ساحل کے ساتھ سعودی قبضے و کنٹرول میں تھے۔ انہوں نے کہا کہ یمنی افواج مختلف قومیتوں کے قیدیوں کو اپنی تحویل میں رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے متجاوز سعودی رجیم کی طرف سے اپنی اتحادی افواج کو ہسپتالوں اور میدان جنگ میں چھوڑنے کو سعودی حمایت یافتہ افواج میں الجھن کا ثبوت قرار دیا اور کہا کہ ان افواج کے پاس اپنا کوئی حقیقی ایجنڈا یا مقصد نہیں ہے۔

🔹 ناکہ بندی کے خاتمے کی وارننگ:
الاسد نے کہا کہ یمنی مسلح افواج کے پاس یمنی سرزمین پر کنٹرول قائم کرنے اور ملک کی خودمختاری کے لیے کسی بھی چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لیے درکار فوجی صلاحیتیں موجود ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مجرم و جارح سعودی رجیم نے یمنی عوام پر عائد ناکہ بندی کو اٹھانے سے انکار کیا تو آنے والے وقت میں فوجی کارروائیوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ "اگر سعودی عرب یمنی عوام پر ناکہ بندی اٹھانے سے انکار کرتا ہے تو آنے والے وقت میں کارروائیوں کا ایک بڑھتا ہوا سلسلہ ہو سکتا ہے۔ گیند اب سعودی جارح کے کورٹ میں ہے، اور اسے یمنی عوام پر ناکہ بندی اٹھانی ہوگی۔"
--
#انصاراللہ #حزام_الاسد #یمن #مغربی_ساحل #سعودی_حمایت_یافتہ_افواج #بحیرہ_احمر #ناکہ_بندی #ایرانی_افواج
شیئر کریں
تبصرے
ابھی کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے آپ لکھیں!
تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں
