ایران نے آبنائے ہرمز میں امریکی فوج کی دوسری جدید آبدوز (ڈرون) دوران مشن قبضے میں لے لی
🔸 سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی ایران کی بحری افواج نے ایک اطلاعیہ میں آبنائے ہرمز میں دہشتگرد امریکی فوج کی دوسری زیرآب ریموٹ کنٹرول ڈرون آبدوز کے شکار کی خبر دی۔
اطلاعیہ کے مطابق، پاسداران انقلاب کی بحری افواج کے مجاہدین نے اللہ تعالیٰ کی مدد و نصرت سے، ایک مربوط اور پیچیدہ کارروائی میں معلوماتی برتری اور الیکٹرانک جنگ کے ذریعے، امریکی فوج کے ایک جدید زیرآبی ڈرون (آبدوز) کو، جو آبنائے ہرمز میں جاسوسی کے مقصد سے اپنے مشن پر تھی، کنٹرول کرنے میں کامیابی حاصل کی۔

🔸 یہ ڈرون ریموس 600 "REMUS 600" کے نام سے ایک ذہین اور جدید زیرآبی آبدوز کی قسم، جسے پاسداران انقلاب کی بحری افواج کے رزمندگان (مجاہدین) نے بطور غنیمت قبضے میں لیا اور اب یہ اس فورس کے ماہرین کے اختیار میں ہے تاکہ اس کی معلومات بازیافت کی جا سکیں (عنقریب ریورس انجینئرنگ کی بھی خوشخبری ملے گی)۔ پاسداران انقلاب کی بحری افواج نے قاطعیت کے ساتھ اعلان کیا کہ آبنائے ہرمز مسدود ہے اور وہ آبنائے ہرمز میں خطرناک حرکات اور غیر مجاز راستوں سے آمد و رفت کے خلاف باوقار اور بلا توقف کارروائی کر رہے ہیں۔
🔸 اطلاعیہ میں REMUS 600 کے بارے میں بتایا گیا کہ یہ زیر سمندر جاسوسی، سمندری فرش کی نقشہ سازی، بارودی سرنگوں کی نشاندہی اور درجہ بندی، ماحولیاتی ڈیٹا جمع کرنے اور زیر سمندر اہداف کی تلاش کے مشنوں کے لیے ڈیزائن کی گئی ہے۔ یہ تقریباً 600 میٹر کی گہرائی تک کام کر سکتا ہے اور اپنے مشن کا بڑا حصہ خود مختار طور پر انجام دے سکتا ہے۔ اس مال غنیمت کی اہمیت صرف خودکار نظام تک محدود نہیں؛ اس کی مشن میموری، ریکارڈ شدہ راستے، سونار ڈیٹا اور سافٹ ویئر کنفیگریشن آبنائے ہرمز میں امریکی زیرآبی آبدوز کی سرگرمیوں کی درست تصویر فراہم کر سکتی ہے۔
شیئر کریں
تبصرے
ابھی کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے آپ لکھیں!
تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں
