ایران نے عراقچی کو نیویارک چھوڑنے کے امریکی دعوے کو مسترد کر دیا
ایران نے اقوام متحدہ میں اپنے مشن کے ذریعے ایکسیوس کی اس رپورٹ کو "بے بنیاد اور بیکار خبر" قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے وزیر خارجہ عباس عراقچی اور ان کے وفد کو نیویارک فوری طور پر چھوڑنے کا حکم دیا تھا۔
اگر امریکہ کسی مہمان جمہوری ملک کے وفد کے ساتھ غیر مہذب، خلافِ قانون رویہ اختیار کرے تو اسکے پست فطرانہ اور غیر جمہوری اقدامات اور اوچھے ہتھکنڈے حیران کن نہیں ہونے چاہئیں کیونکہ یہ اسکی شکست اور ایران کو زیر کرنے میں ناکامی کے واضح اشارے ہیں۔

🔹 نیویارک میں اقوام متحدہ میں ایرانی مشن نے ایکسیوس AXIOS کی اس رپورٹ کو سختی سے مسترد کر دیا جسمیں دعویٰ کیا گیا تھا کہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے وزیر خارجہ عباس عراقچی اور ان کے وفد کو نیویارک فوری طور پر چھوڑنے کا حکم دیا تھا۔ مشن نے واضح کیا کہ ایرانی وفد پہلے ہی شیڈول کے مطابق پیر کے روز روانہ ہو چکا تھا اور واشنگٹن کو 17 ستمبر کو پیشگی اطلاع دے دی گئی تھی۔

🔹 عراقچی نے نیویارک میں میڈیا، تھنک ٹینک اور مختلف ممالک کے عہدیداروں سے ملاقاتیں اور سیر حاصل گفتگو بھی کیں۔ ایران کے خلاف غیر قانونی امریکی-صہیونی رجیم کی جنگ آٹھویں مہینے میں داخل ہو چکی ہے، اور جولائی میں امریکہ نے اپنی وعدہ خلافی کی روش اپناتے ہوئے MoU کی دھجیاں بکھیر دیں اور ایران پر مجرمانہ فضائی حملے اور بحری ناکہ بندی کی، جسکے جواب میں ایران نے آبنائے ہرمز بند کر دیا۔

🔹 دلچسپ بات یہ ہے کہ اگر امریکہ کسی مہمان جمہوری ملک کے وفد کے ساتھ غیر مہذب، خلافِ قانون رویہ اختیار کرے تو اسکے پست فطرانہ اور غیر جمہوری اقدامات اور اوچھے ہتھکنڈے حیران کن نہیں ہونے چاہئیں، کیونکہ یہ اسکی شکست اور ایران کو زیر کرنے میں ناکامی کے واضح اشارے ہیں۔
شیئر کریں
تبصرے
ابھی کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے آپ لکھیں!
تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں
