مرکزی مواد پر جائیں

ریاض ملاقات میں انصاراللہ کے ساتھ سیاسی رابطے پر بات ہوگی، وزیر خارجہ پاکستان

·۴ گھنٹے پہلے

وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے مطابق ریاض میں اگلے ہفتے ہونے والی ملاقات میں فوجی کارروائی کے بجائے مزاحمتی تحریک انصاراللہ کے ساتھ سیاسی رابطے کے راستے تلاش کیے جائیں گے، پاکستان میں عوامی حلقوں سمیت سیاسی و مذہبی اکائیوں نے بھی اس بات پر زور دیا ہے کہ پاکستان غیروں کی جنگ میں حصہ نہ بنے اور غیر جانبداری، بطور ثالث اپنا کردار ادا کرے جبکہ 2015 میں پاکستان کی پارلیمنٹ نے یمن تنازعے میں غیر جانبداری اور ثالثی کا کردار ادا کرنے کی قرارداد منظور کی تھی جسے اکثریتی حلقوں نے دانشمندانہ اقدام قرار دیا گیا تھا۔

وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ ریاض میں اگلے ہفتے ہونے والی ملاقات مزاحمتی تحریک انصاراللہ کی سعودی رجیم کے خلاف انتقامی و جوابی کارروائیوں پر تبادلہ خیال پر مرکوز ہوگی، اور فوجی کارروائی کے متبادل کے طور پر یمنی مزاحمتی تحریک کے ساتھ سیاسی رابطے کی راہیں تلاش کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ ملاقات انصاراللہ کے ساتھ سیاسی رابطے کے طریقوں پر بات کرے گی، نہ کہ فوجی نقطہ نظر پر انحصار کرے گی۔

🔷 یمن کے خلاف سعودی جنگ "ایک امریـــکی جنگ" ہے، انصار اللہ

محمد البخیتی یمن کی تحریک انصاراللہ کے سیاسی دفتر کے رکن نے کہا کہ سعودی رجیم یمنیوں کے درمیان مکالمے میں رکاوٹ ڈال رہی ہے اور جنگ کو طول دے رہی ہے، جبکہ صنعا کی طرف سے اسلامی مقدس مقامات کو نشانہ بنانے کے الزامات کو مسترد کیا۔ انہوں نے کہا کہ یمن کے خلاف سعودی جنگ "ایک امریـــکی جنگ" ہے اور واشنگٹن کے مفادات کی خدمت کرتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ "اسرائیل" عرب حکومتوں کو یمن کے خلاف اکسانے کے لیے انتھک محنت کر رہا ہے۔

🔷 سابق وزیراعظم عمران خان کا مؤقف (2015)

تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے واضح طور پر کہا تھا کہ پاکستان کو یمن جنگ میں حصہ لینے کے بجائے ثالثی کا کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا:

"پاکستان کو جنگ میں شریک ہونے کے بجائے امن مذاکرات میں اہم کردار ادا کرنا چاہیے۔"

ان کی وجہ یہ تھی کہ ایران پڑوسی اور سعودی عرب دوست ملک ہے، اس لیے جنگ بندی کے لیے بات چیت ضروری ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ

"ہم پہلے ہی دوسروں کی جنگوں میں حصہ لے کر بہت نقصان اٹھا چکے ہیں"

اور کہا کہ پاکستان میں پہلے ہی فرقہ واریت کا مسئلہ موجود ہے۔

🔷 پارلیمنٹ کی قرارداد (2015)

پارلیمنٹ نے 10 اپریل 2015 کو متفقہ قرارداد منظور کی جس میں یمن پر مسلط جنگ میں غیر جانبداری اختیار کرنے اور ثالثی کا کردار ادا کرنے کی واضح ہدایت دی گئی۔ قرارداد میں کہا گیا:

"پاکستان یمن تنازعے میں غیر جانبداری اختیار کرے تاکہ وہ بحران کے خاتمے کے لیے متحرک سفارتی کردار ادا کر سکے۔"

قرارداد میں یہ بھی کہا گیا کہ حکومت پاکستان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور او آئی سی کو یمن میں فوری جنگ بندی کے لیے اقدامات کرنے کی ترغیب دے۔ حرمین شریفین کے بارے میں واضح کیا گیا کہ کسی بھی خطرے کی صورت میں پاکستان سعودی رجیم کے شانہ بشانہ کھڑا ہوگا، لیکن یہ دفاعی نوعیت کا ہوگا نہ کہ یمن میں فوجی مداخلت۔

🔷 وزیر اعظم نواز شریف کا مؤقف (2015)

وزیر اعظم نے پارلیمنٹ کی قرارداد کی توثیق کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا موقف واضح ہے: سعودی رجیم کی خودمختاری کا دفاع، لیکن یمن میں فوجی مداخلت نہیں۔ انہوں نے کہا:

"پارلیمنٹ کی قرارداد ان اصولوں کی مکمل توثیق کرتی ہے اور حکومت کے ہاتھ مضبوط کرتی ہے تاکہ وہ مثبت اور تعمیری کردار ادا کر سکے۔"

انہوں نے کہا کہ پاکستان سعودی رجیم کی قیادت کے ساتھ مشاورت سے بحران کے حل کے لیے سفارتی کوششیں تیز کرے گا۔

🔷 موجودہ صورتحال (2026)

اسحاق ڈار نے 1 اکتوبر 2026 کو واضح کیا کہ ریاض میں ہونے والی ملاقات میں فوجی کارروائی کے بجائے سیاسی رابطے کے راستے تلاش کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا:

"ریاض کی ملاقات میں فوجی کارروائی کے بجائے حوثیوں کے ساتھ سیاسی رابطے پر بات ہوگی۔"

ڈار کے مطابق یہ تجویز جمہوری اسلامی ایران کی جانب سے آئی تھی اور یہ کوئی تحریری یا حتمی پیشکش نہیں تھی بلکہ وزرائے خارجہ کے درمیان غیر رسمی مشاورت کا حصہ تھی۔

دفتر خارجہ کے ترجمان سجّاد حیدر خان نے بار بار واضح کیا کہ پاکستان سعودی-یمن تنازعے کو بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے حل کرنا چاہتا ہے، نہ کہ جبری اقدامات سے۔

🔷 عوامی حلقوں اور سیاسی و مذہبی اکائیوں کا مؤقف

پاکستان میں عوامی حلقوں سمیت سیاسی و مذہبی اکائیوں نے بھی اس بات پر زور دیا ہے کہ پاکستان غیروں کی جنگ میں حصہ نہ بنے اور بطور ثالث اپنا کردار ادا کرے۔ اس سے قبل مصر کی الازہر یونیورسٹی کے گریجویٹس کی عالمی تنظیم (پاکستان شاخ) کے سربراہ مفتی عزیر محمود الازہری نے المسیرہ کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں یمن کے خلاف سعودی الزامات کی مذمت کی تھی اور خبردار کیا تھا کہ اسلامی مقدس مقامات کو سیاسی بنانا (مکہ پر حملے کا جھوٹا بیانیہ) اور مذہبی جذبات کا استحصال مسلمانوں کے درمیان تنازعات کو ہوا دے سکتا ہے۔ الازہری نے بھی 2015 میں پاکستان کے اس فیصلے کو دانشمندانہ قرار دیا جس میں وہ سعودی قیادت والی جارحیت میں شامل نہ ہوا۔

اس خبر پر آپ کا ردِعمل

شیئر کریں

WhatsAppFacebookTwitter / X

تبصرے

ابھی کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے آپ لکھیں!

تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں