مرکزی مواد پر جائیں

صہیونی انتخابات: عرب ووٹرز کی ریکارڈ شرکت نے نیتن یاہو کی اقتدار تک رسائی کو مشکوک بنا دیا

·۶ دن پہلے

🔸 صہیونی انتخابات میں عرب ووٹرز کی ریکارڈ شرکت (70-75 فیصد) نے نیتن یاہو کے بلاک کی اکثریت کو روک دیا، جس کے نتیجے میں نیتن یاہو اور آئزنکوٹ دونوں نے اکثریت کا دعویٰ کیا لیکن کوئی بھی 61 نشستوں تک نہیں پہنچ سکا۔

🔸 نتن یاہو کے ساتھی صہیونی قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر شہریوں کے دروازے کھٹکھٹا کر ووٹ کی بھیک مانگتے رہے۔

🔸 اسلامی جمہوریہ ایران کے سابق سفیر برائے لبنان ڈاکٹر مجتبیٰ امانی نے کہا ہے کہ نیتن یاہو "بقا کی جنگ" کی زبان سے معاشرے کو صہیونی رجیم کی تباہی سے ڈرا کر ووٹ بچانے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن میدانی حقائق اور ناکامی ظاہر کرتی ہے کہ یہ کھیل صہیونی رجیم کی شکست کو مستحکم کرے گا، جبکہ ماہرین کے مطابق انتخابات میں 80 فیصد سے زیادہ شرکت اور عرب ووٹرز کی زیادہ شرکت نے نیتن یاہو کے لیے 61 نشستیں حاصل کرنا مشکل بنا دیا ہے۔

🔹 صہیونی رجیم کے انتخابات میں عرب ووٹرز کی ریکارڈ سطح پر شرکت نے سیاسی صورتحال کو یکسر تبدیل کر دیا ہے۔ عرب علاقوں میں ووٹر ٹرن آؤٹ 70 فیصد سے تجاوز کر گیا، اور کئی شہروں میں 80 فیصد سے زیادہ ریکارڈ ہوا۔ اس تاریخی شرکت نے عرب جماعتوں (جوائنٹ لسٹ اور راعم) کے لیے ریکارڈ 16 سے 19 نشستوں کی راہ ہموار کی ہے، جو پچھلی کنیست میں ان کی 10 نشستوں سے تقریباً دوگنا ہے۔

دونوں بلاکس حکومت بنانے کے لیے درکار 61 نشستوں کی اکثریت سے محروم :

🔹 اسکے نتیجے میں، نیتن یاہو کا دائیں بازو اور مذہبی بلاک تقریباً 50 سے 52 نشستوں پر آ گیا ہے، جو 2022 میں حاصل کردہ 64 نشستوں سے نمایاں کمی ہے۔ آئزنکوٹ کا اپوزیشن بلاک 49 سے 53 نشستوں کے درمیان ہے، لیکن دونوں بلاکس حکومت بنانے کے لیے درکار 61 نشستوں کی اکثریت سے محروم ہیں۔

نیتن یاہو کی شکست کا اعلان:

🔹 فلسطینی رہنما مصطفیٰ برغوثی نے نیتن یاہو کی شکست کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ "سموٹریچ اور بن گویر کا دور ختم ہو گیا"۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر آئزنکوٹ نے عرب جماعتوں کے ساتھ اتحاد نہ کیا تو نئے انتخابات یا صہیونی اتحادی حکومت کا امکان ہے۔

نتنیاہو کے ساتھی ووٹروں سے منتیں کر رہے ہیں:

🔹 صہیونی قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر شہریوں کے دروازے کھٹکھٹا کر ووٹ کی بھیک مانگتے رہے۔


اکثریت کا دعویٰ:

🔹 دونوں بڑے رہنماؤں نے اکثریت کا دعویٰ کیا لیکن حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی بلاک اکثریت حاصل نہیں کر سکا۔ لکود نے ووٹنگ کے وقت میں توسیع کی کوشش کی، جسے آئزنکوٹ کی پارٹی نے مسترد کر دیا۔

نیتن یاہو کی بقا کی کوشش، بحران کے درمیان "جنگ" کی زبان:


🔹 صدا و سیما کے خصوصی پروگرام میں ایران کے سابق سفیر برائے لبنان ڈاکٹر مجتبیٰ امانی اور ماہر سہیل کثیرینژاد نے صہیونی رجیم کے انتخابات کا تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ اس بار 80 فیصد سے زیادہ ووٹر ٹرن آؤٹ متوقع ہے، لیکن یہ نیتن یاہو کے لیے فائدہ مند نہیں کیونکہ ان کی اتحادی مذہبی جماعتیں پہلے ہی اپنی زیادہ سے زیادہ حد تک ووٹ حاصل کر چکی ہیں۔ اس کے برعکس، 10 لاکھ سے زائد اہل عرب ووٹرز کی ریکارڈ شرکت سے عربی اور درمیانی جماعتوں (نیتن یاہو کے حریف) کو فائدہ پہنچا ہے، جس سے انکے بلاک کو 2022 کے 64 نشستوں سے کم ہو کر تقریباً 50-52 نشستیں ملنے کا امکان ہے۔

🔹 ماہرین کے مطابق، نیتن یاہو "بقا اور تباہی" کی زبان استعمال کر کے صہیونی معاشرے کو ڈرا رہے ہیں تاکہ اپنے ووٹ بچا سکیں، لیکن میدانی حقائق ان کی ناکامی ظاہر کر رہے ہیں۔ اس وقت تین ممکنہ منظرنامے سامنے آ رہے ہیں: پہلا، نیتن یاہو کی کمزور حکومت (جس کا امکان کم ہے)؛ دوسرا، کوئی بھی بلاک اکثریت حاصل نہ کر سکے (سب سے زیادہ ممکنہ)، جس کے نتیجے میں 6 ماہ بعد نئے انتخابات ہوں گے اور نیتن یاہو نگران وزیر اعظم رہیں گے؛ اور تیسرا، آئزنکوٹ کی حکومت بنے، جس کے دوران وہ "تباہ و برباد حالت" چھوڑ سکتے ہیں۔

نیتن یاہو اور آئزنکوٹ میں ایران کے خلاف یکساں موقف:

🔹 اگرچہ نیتن یاہو اور آئزنکوٹ دونوں اسلامی جمہوریہ ایران اور خطے کے خلاف ہیں، لیکن آئزنکوٹ فوج کی تھکاوٹ کو سمجھتے ہیں اور ممکنہ طور پر جنگ اور امن عمل کے درمیان ایک مرکب راستہ اختیار کریں گے، جبکہ نیتن یاہو لامحدود جنگ کے خواہاں ہیں۔ نیتن یاہو کی اس بے چینی کی اصل وجہ اقتدار کھونے کا خوف اور ان کے خلاف زیرِ سماعت عدالتی مقدمات ہیں۔

--

#اسرائیل #نتنیاہو #بن_گویر #انتخابات #ووٹر #مہم
#ایران_کے_سابق_سفیر_مجتبیٰ_امانی #نیتن_یاہو_کی_بقا_کی_کوشش #صہیونی_انتخابات_میں_عرب_ووٹرز_کی_شرکت #61_نشستوں_کی_اکثریت_مشکل #صہیونی_رجیم_میں_سیاسی_بحران #نئے_انتخابات_کا_امکان

اس خبر پر آپ کا ردِعمل

شیئر کریں

WhatsAppFacebookTwitter / X

تبصرے

ابھی کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے آپ لکھیں!

تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں