اسرائیل میں سیاسی تعطل: کوئی بھی اتحاد حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہیں، نیتن یاہو کو شدید دھچکا
🔹 صہیونی انتخابات کے حتمی نتائج سامنے آنے کے بعد تل ابیب میں سیاسی بحران ایک نئے مرحلے میں داخل ہوگیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق صہیونی مرکزی انتخابی کمیٹی کے حتمی نتائج کے مطابق، قصاب غزہ اور نسل کشی کے مرتکب جنگی مجرم نیتن یاہو کا گروہ 53 نشستوں اور گادی آئزن کوٹ کا گروہ 48 نشستوں پر ہے، جبکہ عرب جماعتوں نے 19 نشستیں حاصل کی ہیں۔ کوئی بھی گروہ 61 نشستوں کی اکثریت تک نہیں پہنچا۔ لیکود کی جانب سے عرب جماعتوں پر ووٹ چوری کے الزامات (جنہیں پولیس نے مسترد کر دیا) نے آئزن کوٹ کے لیے عرب جماعتوں کی حمایت سے حکومت بنانے کا راستہ پیچیدہ بنا دیا ہے۔ گادی آیزنکوٹ نے شاباک کے سربراہ اور مرکزی انتخابی کمیٹی کے سربراہ کے ساتھ مشترکہ اجلاس کے بعد نیتن یاہو اور انکی جماعت شرپسند لیکود پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ انتخابی نتائج کو مشکوک بنانے اور ان کی ساکھ ختم کرنے کے لیے منظم مہم چلا رہے ہیں۔

🔹 عرب جماعتوں کے رہنماؤں نے الزامات کو نسل پرستانہ قرار دیا اور نیتن یاہو کی رجیم کو ہٹانے کے لیے تعاون کی تیاری ظاہر کی۔ اپوزیشن میں بھی تقسیم ہے؛ کچھ رہنما عرب جماعتوں کے ساتھ تعاون پر زور دے رہے ہیں، جبکہ لیبرمین قومی اتحاد کی حکومت چاہتے ہیں اور بینٹ نے عرب جماعتوں کے ساتھ بیٹھنے سے انکار کیا ہے۔
🔹 حتمی نتائج کی جانچ پڑتال اور قانونی مراحل مکمل ہونے کے بعد بدھ 4 نومبر کو باضابطہ طور پر جاری کیے جائیں گے۔ اس کے بعد صہیونی صدر اسحاق ہرزوگ کنیسٹ میں کامیاب ہونے والی جماعتوں کے سربراہان سے مشاورت شروع کریں گے تاکہ کسی ایک رہنما کو حکومت تشکیل دینے کا اختیار سونپا جاسکے۔ نئے منتخب ہونے والے کنیسٹ کے ارکان 10 نومبر کو حلف اٹھائیں گے۔
شیئر کریں
تبصرے
ابھی کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے آپ لکھیں!
تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں
