مرکزی مواد پر جائیں

ٹرمپ کا اسرائیل کو 40,000 ٹن بم کی ترسیل کا منصوبہ: جدید امریکی تاریخ کی سب سے بڑی ترسیل

·۳ گھنٹے پہلے

نام نہاد انسانی حقوق کی علمبردار اور دنیا بھر میں دہشت گردی کو پروان چڑھانے والی امریکی (ٹرمپ) انتظامیہ 2.8 بلین ڈالر کے پیکج کے تحت اسرائیل کو 40,000، 2,000 پاؤنڈ وزنی بم فراہم کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ ٹکر کارلسن نے "جدید امریکی تاریخ میں روایتی دھماکہ خیز مواد کی سب سے بڑی ترسیل" قرار دیا ہے، اور اس کا موازنہ دوسری عالمی جنگ کے برلن اور ٹوکیو پر حملوں سے کیا ہے۔ سینیٹر کرس وان ہولن نے اسے ٹیکس دہندگان کی مالی اعانت سے اسرائیل کو تحفہ قرار دیتے ہوئے مخالفت کا اعلان کیا ہے۔

🔹 ٹرمپ انتظامیہ ایک 2.8 بلین ڈالر کے پیکج کی تیاری کر رہی ہے جس کے تحت اسرائیلی رجیم کو 40,000، 2,000 پاؤنڈ وزنی بم فراہم کیے جائیں گے۔ واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق، اس پیکج میں 20,000 MK-84، 20,000 BLU-117، اور 20,000 I-2000 پیینیٹریٹر وار ہیڈز شامل ہیں۔ اگرچہ اسے ایک سیل کے طور پر بیان کیا گیا ہے، لیکن اس کی مالی معاونت امریکی فارن ملٹری فنانسنگ پروگرام کے ذریعے کی جائے گی، جس کے تحت واشنگٹن وہ فنڈز فراہم کرتا ہے جو حکومت امریکی ہتھیاروں کی خریداری کے لیے استعمال کرتی ہے۔

🔹 مجوزہ ترسیل کو غیر رسمی طور پر کانگریسی کمیٹیوں کو مطلع کر دیا گیا ہے، اور ٹرمپ انتظامیہ کانگریسی عہدیداروں پر اسکی منظوری کے لیے دباؤ ڈال رہی ہے۔ ٹکر کارلسن نے اس منصوبہ بند ترسیل پر شدید تنقید کی، اور اسے "جدید تاریخ میں امریکہ سے روایتی دھماکہ خیز مواد کی سب سے بڑی ترسیل" قرار دیا۔ انہوں نے اس کا موازنہ دوسری عالمی جنگ کے دوران آٹھویں ایئر فورس کے برلن پر حملے (تقریباً 3,000 ٹن) اور ٹوکیو پر آپریشن میٹنگ ہاؤس (تقریباً 1,600 ٹن) سے کیا۔ کارلسن نے دلیل دی کہ اس ترسیل کے پیمانے کی کوئی تاریخی نظیر نہیں ہے اور اس کے فوجی جواز پر سوال اٹھایا۔

🔹 کارلسن نے مزید کہا کہ MK-84 کی عمارتوں کو گرانے اور گہرے گڑھے بنانے کی صلاحیت اسے آبادی والے علاقوں میں خاص طور پر تباہ کن بناتی ہے، اور یاد دلایا کہ اسرائیل نے غزہ میں ایسے سینکڑوں بم استعمال کیے ہیں۔ انہوں نے اس ترسیل کو ٹیکس دہندگان کی مالی اعانت سے دیا جانے والا تحفہ قرار دیا۔ سینیٹر کرس وان ہولن نے بھی اس فروخت کی مخالفت کا اعلان کیا، اور دلیل دی کہ انتظامیہ ٹیکس دہندگان کی مالی اعانت سے بم بھیج رہی ہے جبکہ اسرائیلی افواج غزہ اور لبنان میں جارحیت جاری رکھے ہوئے ہیں۔ انتظامیہ نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

--

#ٹرمپ #اسرائیل #40_ہزار_بم #ٹکر_کارلسن #دوسری_عالمی_جنگ #فارن_ملٹری_فنانسنگ #سینیٹر_وان_ہولن #غزہ #انسانی_حقوق

شیئر کریں

WhatsAppFacebookTwitter / X

تبصرے

ابھی کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے آپ لکھیں!

تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں