امریکی مخالفت کے باوجود ملائیشیا کا چینی ہواوے چپس کی طرف رجحان، 494 ملین ڈالر کا AI منصوبہ
ملائیشیا امریکی سخت مخالفت اور برآمدی پابندیوں کی دھمکیوں کے باوجود 494 ملین ڈالر کے قومی AI منصوبے کے لیے چینی کمپنی ہواوے کی Ascend 910C چپس استعمال کرنے پر غور کر رہا ہے، جو واشنگٹن کی ٹیکنالوجی اجارہ داری کو چیلنج کرنے والا ایک اہم اقدام ہے۔

🔹 ملائیشیا نے امریکہ کی طرف سے سخت انتباہات اور برآمدی پابندیوں کی دھمکیوں کے باوجود اپنے "خودمختار مصنوعی ذہانت" منصوبے کے لیے چینی کمپنی ہواوے کی جدید AI چپس (Ascend 910C) استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ 2 بلین رنگٹ (تقریباً 494 ملین ڈالر) کا منصوبہ ہے جس کا مقصد قومی ڈیٹا پر ملائیشیا کے کنٹرول کو بڑھانا اور حساس سرکاری، فوجی اور سیکورٹی معلومات کو ملک کے اندر ہی محفوظ رکھنا ہے۔

🔹 واشنگٹن نے پہلے ہی خبردار کیا تھا کہ ہواوے کی Ascend 910C چپس کا استعمال امریکی برآمدی ضوابط کی خلاف ورزی ہو سکتا ہے اور وہ دنیا بھر میں AI بنیادی ڈھانچے میں امریکی ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دینے کی کوشش کر رہا ہے۔ تاہم، ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم نے واضح کیا ہے کہ ان کا ملک صرف غیر ملکی ٹیکنالوجی کا صارف نہیں رہنا چاہتا بلکہ جدید ٹیکنالوجی کی پیداوار اور ملکیت کی صلاحیت حاصل کرنا چاہتا ہے۔

🔹 سرکاری کمپنی "ٹیلی کام ملائیشیا" کو اس منصوبے کے لیے بنیادی آپریٹر منتخب کیا گیا ہے، جس نے پہلے ہی کلاؤڈ انفراسٹرکچر میں ہواوے کے ساتھ تعاون کیا ہے۔ اگر یہ منصوبہ حتمی شکل اختیار کر لیتا ہے تو یہ پہلی بار ہوگا جب کوئی غیر ملکی حکومت امریکی چپس کے بجائے چینی AI ایکسلریٹر کو اپنے سرکاری منصوبے کے لیے منتخب کرے گی، جو جنوب مشرقی ایشیا میں امریکہ اور چین کے ٹیکنالوجی مقابلے کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہوگا۔
شیئر کریں
تبصرے
ابھی کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے آپ لکھیں!
تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں
