فارن پالیسی جریدہ: سعودی رجیم اپنی موجودہ مشکلات کی خود ذمہ دار، اسٹریٹجک غلطیاں مہنگی پڑ گئیں
🔶واشنگٹن: امریکی جریدے فارن پالیسی میں شائع ہونے والے ایک تجزیے میں کہا گیا ہے کہ سعودی رجیم آج جن علاقائی اور سلامتی کے چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے، ان میں اس کی اپنی خارجہ پالیسی کی غلطیوں اور ضائع کیے گئے مواقع کا بھی اہم کردار ہے۔
🔶 مشرقِ وسطیٰ کے امور کے ماہر اسٹیون اے کک نے اپنے مضمون "The Saudis Are the Architects of Their Own Misfortune" میں لکھا ہے کہ ریاض نے گذشتہ برسوں میں ایسے کئی فیصلے کیے جنہوں نے اسے موجودہ پیچیدہ صورتحال سے دوچار کر دیا۔
🔶 رپورٹ کے مطابق، سعودی عرب ایک ایسے ماحول میں کھڑا ہے جہاں اسے ایران، یمن میں انصار اللہ اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث سلامتی، توانائی اور معیشت سے متعلق سنگین خدشات کا سامنا ہے، جبکہ اسکے بیشتر عرب اتحادی بھی مؤثر فوجی یا سیاسی مدد فراہم کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔
🔶 تجزیے میں کہا گیا ہے کہ ریاض نے طویل عرصے تک اپنی سلامتی کے لیے امریکہ پر انحصار کیا، تاہم حالیہ بحران نے اس حکمتِ عملی کی محدود افادیت کو نمایاں کر دیا ہے۔ اسی وجہ سے سعودی قیادت اب سفارتی حل اور کشیدگی میں کمی کی کوششوں پر زیادہ توجہ دے رہی ہے۔
🔶 فارن پالیسی کے مطابق، موجودہ بحران نے نہ صرف سعودی رجیم بلکہ پورے خطے میں طاقت کے توازن، امریکی کردار اور مستقبل کی علاقائی سلامتی سے متعلق اہم سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
شیئر کریں
تبصرے
ابھی کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے آپ لکھیں!
تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں
