امریکہ میں ڈیزل کا منافع 100 ڈالر فی بیرل کی تاریخی سطح پر پہنچ گیا
👈 عالمی ایندھن کے بحران، ایران اور یوکرین کی جنگوں، روسی پابندیوں اور خلیج فارس سے برآمدات میں کمی کے باعث امریکہ میں ڈیزل کی تیاری کا منافع پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا ہے، جبکہ ڈیزل کے ذخائر کئی دہائیوں کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے ہیں۔
🔶 بلومبرگ کی تازہ رپورٹ کے مطابق، امریکہ میں خام تیل سے ڈیزل تیار کرنے کا منافع (جسے "کریک اسپریڈ" کہتے ہیں) نے پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کا تاریخی ریکارڈ توڑ دیا ہے۔ یہ اشاریہ پیر کو تین ہندسوں کی سطح پر بند ہوا، جو عالمی ایندھن کی مارکیٹ میں پھیلی شدید قلت کا آئینہ دار ہے۔ اس بحران کی بنیادی وجوہات میں ایران اور یوکرین میں جاری جنگیں، روس کی ڈیزل برآمدات پر عائد پابندیاں، مشرق وسطیٰ کی اہم ریفائنریوں پر حملے، اور خلیج فارس سے برآمدات میں بے مثال کمی شامل ہیں۔
🔶 ان عوامل کے نتیجے میں امریکہ میں ڈیزل کے ذخائر کئی دہائیوں کی کم ترین سطح پر آ گئے ہیں۔ اس صورتحال پر فصلوں کی کٹائی کے موسم کی اضافی طلب نے مزید دباؤ ڈالا ہے، جس سے ڈیزل کی قیمتیں عام صارفین اور صنعتوں کے لیے ناقابل برداشت حد تک بڑھ گئی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک عالمی تنازعات اور پابندیاں جاری ہیں، ایندھن کی قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ہے، جس سے عالمی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔
شیئر کریں
تبصرے
ابھی کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے آپ لکھیں!
تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں
