عراق کے 7 صوبوں میں امریکہ اور سعودی رجیم کے مشترکہ دہشتگردانہ حملے اور جارحیت: سرکاری فوج حشد الشعبی کے 20 فوجی شہید، 32 زخمی + عراقی حکومت کا ہنگامی اجلاس
🔶 امریکہ اور سعودی عرب کے مشترکہ دہشت گرد حملوں کے بعد، جس میں عراق کی
سرکاری فوج حشد الشعبی کے متعدد اڈوں کو نشانہ بنایا گیا، عراقی وزیراعظم علی
فالح الزیدی نے قومی سلامتی کی کابینہ کا ہنگامی اجلاس بلایا۔ یہ حملے بغداد،
واسط، نینویٰ، بصرہ، کرکوک، کربلا اور دیالیہ کے 7 صوبوں میں عراقی سرکاری
سیکیورٹی فورسز حشد الشعبی کے مراکز پر کیے گئے، جن کے نتیجے میں کم از کم 20
فوجی شہید اور 32 زخمی ہوئے۔ حشد الشعبی نے اسے عراق کی علاقائی سالمیت کی
کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔
عراقی مقاومت نے مجرم سعودی رجیم کو خبردار کردیا:
🔶 عراقی اسلامی مزاحمت نے مجرم سعودی رجیم کو خبردار کیا کہ کوئی بھی احمقانہ
اقدام سخت جواب کا باعث ہوگا۔ "ہم ان حملوں کو ایک انتہائی خطرناک اشتعال،
عراق کی علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی اور ملک کے سرکاری سیکیورٹی اداروں
کو نشانہ بنانا سمجھتے ہیں، اور اس بات پر زور دیتے ہیں کہ متعلقہ حکام میدان
میں صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں اور نقصانات اور درست اعداد و شمار کا اندازہ
لگانے کا عمل جاری ہے۔"
یمنی مقاومت اور حکومت کی مذمت:
🔶 یمن کی مزاحمتی تحریک انصاراللہ اور یمنی حکومت نے بھی ان حملوں کی شدید
مذمت کی اور عراق کے جواب دینے کے حق پر زور دیا۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ
عراق پر حملہ امریکہ اور سعودی رجیم کی خطے کے ممالک کے خلاف جاری تسلط پسند
پالیسیوں اور صہیونی منصوبے کی خدمت کا تسلسل ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ
حملے ایک "غیر قانونی، بزدلانہ اور تمام بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کے
خلاف" اقدام ہیں۔
یہودی اور وہابی گٹھ جوڑ اور اعتراف جرم:
🔶 دہشتگرد امریکی ادارے سینٹکام اور مجرم وہابی سعودی رجیم کی وزارت دفاع نے
اعلان کیا کہ یہ حملے ریاض اور واشنگٹن کے درمیان عراق کے کچھ حصوں پر ہم
آہنگی سے کیے گئے۔ ساتھ یہ بھی دعویٰ کیا کہ یہ حملے مشرقی سعودی عرب میں تیل
کے مراکز پر مبینہ ڈرون حملے کے جواب میں کیے گئے ہیں۔ عراقی اسلامی مزاحمت نے
ریاض کے اس جھوٹے دعوؤں کو یکسر مسترد کردیا ہے۔
ہمیں واٹسپ پر جوائن کریں:
https://chat.whatsapp.com/Ikx9rjzpVtBFXQMOgFylGU
شیئر کریں
تبصرے
ابھی کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے آپ لکھیں!
تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں
