فرانس: اسکولوں کی ناقص صورتحال کے خلاف طلبہ کا ملک گیر احتجاج، پولیس کا بدترین تشدد
فرانس بھر میں طلبہ کے احتجاج نے شدت اختیار کر لی ہے، جس میں 5,000 سے زیادہ گرفتاریاں، پولیس کے بدترین تشدد کے باعث 215 طلبہ زخمی ہوئے، پیرس میں آج، بروز منگل کو 40,000 تک مظاہرین کی توقع ہے۔
اسکولوں کی ناقص صورتحال، اساتذہ کی شدید کمی، کلاس رومز میں گنجائش سے زیادہ طلبہ، اور تعلیمی بجٹ میں کٹوتیوں کے خلاف احتجاج
🔹 فرانس میں ستمبر کے اواخر سے جاری طلبہ کی تحریک نے ملک گیر شکل اختیار کر لی ہے۔ یہ احتجاج پیرس کے نواحی علاقے کریٹی میں واقع لائسی سینٹ ایگزوپیری سے شروع ہوا اور تیزی سے فرانس بھر میں پھیل گیا۔ طلبہ بنیادی طور پر اسکولوں کی ناقص صورتحال، اساتذہ کی شدید کمی، کلاس رومز میں گنجائش سے زیادہ طلبہ، اور تعلیمی بجٹ میں کٹوتیوں کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ تعلیمی نظام کو نظر انداز کیا جا رہا ہے جبکہ فوجی اخراجات میں بے پناہ اضافہ کیا جا رہا ہے۔

ٹریڈ یونینوں نے بھی طلبہ کا ساتھ دیا
🔹 منگل 6 اکتوبر 2026 کو یہ تحریک اپنے تیسرے ملک گیر احتجاجی دن میں داخل ہو گئی، جس میں فرانس کی طاقتور ٹریڈ یونینوں نے بھی طلبہ کا ساتھ دیا۔ فرانسیسی ٹریڈ یونین کنفیڈریشن (CGT) کی سیکرٹری جنرل سوفی بِنے نے اعلان کیا کہ یونین کے ارکان "ہائی اسکول کے طلبہ کی حفاظت" کے لیے سڑکوں پر آئیں گے۔ پیرس میں یہ مظاہرہ دوپہر 2 بجے جمہوریہ چوک (Place de la République) سے شروع ہو کر نیشن چوک (Place de la Nation) تک جائے گا۔

طلباء پر بدترین تشدد اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں
🔹 احتجاج کے دوران تشدد کے واقعات میں تیزی آئی ہے۔ پیرس، اسٹراسبرگ، مارسیل اور رین سمیت کئی شہروں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ مظاہرین نے کوڑے دان کے ڈبوں کو آگ لگائی، بس اسٹاپس کو نقصان پہنچایا، اور پولیس پر پٹاخے پھینکے۔ پولیس نے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کرتے ہوئے ڈنڈوں، آنسو گیس اور گولیوں سے طلباء پر بدترین تشدد کیا جبکہ لڑکیوں کو بے دردی سے مارا اور پیٹا گیا۔ وزارت داخلہ کے مطابق تحریک کے آغاز سے اب تک 5,060 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے جن میں 87 فیصد نابالغ ہیں۔ 215 طلبہ اور 715 پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں، جبکہ 24 اسکولوں کو آگ لگانے یا توڑ پھوڑ کا نشانہ بنایا گیا۔ پیر کے روز پیرس کے نواحی علاقے میں ایک 15 سالہ طالب علم پولیس کی فائر کی گئی اسٹنگ بال گرنیٹ اٹھانے کے بعد اپنا ہاتھ کھو بیٹھا۔

فرانسیسی پولیس کے طلباء پر وحشیانہ تشدد کے خلاف ایران کی مذمت
🔹 ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اسکولوں کے حالات پر احتجاج کرنے والے طلبہ کے خلاف فرانسیسی سیکورٹی فورسز کے وحشیانہ کریک ڈاؤن کی مذمت کرتے ہوئے فرانسیسی حکام کے دوہرے معیار پر تنقید کی۔ بقائی نے طلبہ کے بنیادی حقوق اور آزادی کے احترام کا مطالبہ کیا، اور کہا کہ ایسا رویہ خصوصاً ان ممالک کے لیے اہم ہے جو انسانی حقوق کے بارے میں اپنے مبینہ عزم کا بہت زیادہ پرچار کرتے رہے ہیں۔

فوری وسائل فراہم کرنے اور اسکولوں کی صورتحال بہتر بنانے کا مطالبہ
🔹 فرانسیسی حکومت نے احتجاج کو "شہری تشدد" قرار دیتے ہوئے مظاہرین پر زور دیا ہے کہ وہ پرامن رہیں۔ وزیر انصاف جیرالڈ ڈارمینین نے کہا کہ املاک کو نقصان پہنچانے والوں کے والدین سے معاوضہ وصول کیا جائے گا۔ وزیر تعلیم ایڈورڈ گیفری نے والدین سے اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کو سڑکوں پر احتجاج سے روکیں کیونکہ "سڑکوں پر بچے خطرے میں ہیں"۔ دوسری جانب طلبہ تنظیموں اور یونینوں نے حکومت سے تعلیمی شعبے میں فوری وسائل فراہم کرنے اور اسکولوں کی صورتحال بہتر بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
شیئر کریں
تبصرے
ابھی کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے آپ لکھیں!
تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں
