حماس کے نئے سربراہ خلیل الحیه: حزب اللہ، انصاراللہ، اور اخوان المسلمین اور ایران کی تبریک، مزاحمت کی نا شکنی کا اعلان
حماس کی طرف سے خلیل الحیه کو دفترِ سیاسی کا نیا سربراہ اور شہید یحییٰ سنوار
کا جانشین منتخب کیے جانے کے بعد مزاحمتی محور کی مختلف تنظیموں اور اتحادی
ممالک کی طرف سے تہنیتی پیغامات کا سلسلہ جاری ہے۔ یمن کی انصاراللہ تحریک نے
اس انتخاب کو مزاحمت کی نا شکنی کا ثبوت قرار دیا اور کہا کہ الحیه فلسطینی
قوم کے دکھوں اور آرزوؤں سے اٹھنے والے مجاہد رہنما ہیں۔ انصاراللہ نے اس بات
پر زور دیا کہ یہ انتخاب صہیو-نی رجیم کے مزاحمت کو تباہ کرنے کے عزائم کی
ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔
فلسطین کی مزاحمتی کمیٹیوں اور مجاہدین تحریک نے بھی اس انتخاب کا خیرمقدم
کرتے ہوئے کہا کہ حماس کی اپنی قیادت کے ڈھانچے کو ازسرِنو ترتیب دینے کی
صلاحیت اسکی تنظیمی مضبوطی اور بحرانوں سے گزرنے کی قوت کو ظاہر کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ قابض، جارح اور نسل پرست صہیو-نی رجیم رہنماؤں کے قتل کے
ذریعے قیادت میں خلا اور انتشار پیدا کرنا چاہتی تھی، لیکن حماس نے ایک بار
پھر ثابت کر دیا کہ وہ مشکل حالات میں بھی اپنے تنظیمی ڈھانچے کو برقرار رکھ
سکتی ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ عراقچی نے اپنے تبریکی پیغام میں محاصرے اور صہیو-نی
جرائم کے باوجود حماس کے اندرونی انتخابات کے انعقاد کو ایک بڑی کامیابی قرار
دیا اور ایران کی طرف سے فلسطینی قوم کی جائز مبارزات کی مسلسل حمایت کا اعادہ
کیا۔ اسی طرح حزب اللہ لبنان نے بھی اپنے بیان میں اس انتخاب کو سراہا اور کہا
کہ الحیه کی ایک اہم خصوصیت حماس کے ایران اور حزب اللہ کے ساتھ تعلقات کو
فروغ دینے کی انکی حمایت ہے۔ حزب اللہ نے مزید کہا کہ فلسطینی مزاحمت وطن اور
مقدسات کی آزادی تک اپنے موقف پر قائم رہے گی۔
اخوان المسلمین نے اپنے بیان میں اس انتخاب کو حماس کی تنظیمی مضبوطی اور نسل
کشی کی جنگ کے دوران قیادت کے ڈھانچے کو ازسرِنو ترتیب دینے کی صلاحیت کا مظہر
قرار دیا۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ نئی قیادت فلسطینی اتحاد اور
مزاحمت کے راستے کو تقویت دے گی۔
شیئر کریں
تبصرے
ابھی کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے آپ لکھیں!
تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں
