سہ فریقی معاہدہ خطے میں امریکی سلامتی کے وعدوں پر بڑھتے ہوئے عدم اعتماد کو ظاہر کرتا ہے، ایران نے سعودی-پاک-ترکی معاہدے کو خطے میں تبدیلی اور امریکی فریب کو سمجھنے کی علامت قرار دے دیا، وزارت خارجہ کی ہفت وار پریس کانفرنس
ایران کی بنیادی پالیسی ہمیشہ سے یہ رہی ہے کہ وہ خطے کے ممالک کو بیرونی
کھلاڑیوں پر انحصار کیے بغیر باہمی تعاون، اعتماد اور اندرونی سلامتی کی طرف
راغب کرے، آبنائے ہرمز کا کھلنا عمان کے معاہدے سے مشروط نہیں، امریکی ناکہ
بندی ختم ہونی چاہیے، ترجمان وزارت خارجہ
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سعودی عرب، پاکستان اور ترکی
کے درمیان ہونے والے سہ فریقی سکیورٹی معاہدے کو خطے کے ممالک کے ادراک میں
تبدیلی کی علامت قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ علاقائی ممالک نے پچھلے دو تین
سالوں کے واقعات کے بعد یہ سمجھ لیا ہے کہ جھوٹے محافظوں سے سلامتی کی کوئی شے
خریدنا ممکن نہیں ہے۔ بقائی نے زور دیا کہ ایران کی بنیادی پالیسی ہمیشہ سے یہ
رہی ہے کہ وہ خطے کے ممالک کو بیرونی کھلاڑیوں پر انحصار کیے بغیر باہمی
تعاون، اعتماد اور اندرونی سلامتی کی طرف راغب کرے۔
ترجمان نے کویت میں ایرانی اسکول کی بندش اور چار ایرانی شہریوں کی گرفتاری کو
"عجیب" اقدام قرار دیا اور کہا کہ ایران کی سفارتی کوششیں جاری ہیں۔ انہوں نے
امریکہ کو خطے میں عدم استحکام کا باعث قرار دیا اور کہا کہ قابض و نسل پرست
صہیونی رجیم امریکی حمایت کے بغیر اپنے جرائم کا ارتکاب نہیں کر سکتی۔ بقائی
نے آبنائے ہرمز کے کھلنے کو عمان کے ساتھ کسی معاہدے سے مشروط نہیں قرار دیا
اور کہا کہ جب تک امریکی بحری ناکہ بندی جاری رہے گی، آبنائے ہرمز کو محفوظ
نہیں کہا جا سکتا۔ انہوں نے عمان کے ساتھ مذاکرات کو "جاری اور تعمیری" قرار
دیا۔
ہمیں واٹسپ پر جوائن کریں:
https://chat.whatsapp.com/Ikx9rjzpVtBFXQMOgFylGU
شیئر کریں
تبصرے
ابھی کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے آپ لکھیں!
تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں
