ایران کی تین شرائط کے بغیر آبنائے ہرمز نہیں کھلے گا، پالیسی برقرار، ٹرمپ کے دعوے مسترد
ایران نے آبنائے ہرمز کی بندش کو برقرار رکھا ہوا ہے اور ٹرمپ کے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا ہے کہ امریکی بحریہ اس آبی گزرگاہ پر کنٹرول رکھتی ہے۔ ایک سینئر ایرانی ذریعہ نے المیادین کو تصدیق دی کہ ایران نے اپنی پالیسی یا بحری جہاز رانی کے طریقہ کار میں کوئی تبدیلی نہیں کی ہے، اور خبردار کیا کہ ایران کے مقرر کردہ راستوں سے باہر کوئی بھی گزرگاہ انتہائی خطرناک ہوگی۔
محسن رضائی، جنہیں حال ہی میں رہبر معظم کے حکم کے ذریعے سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کا سیکرٹری مقرر کیا گیا ہے، ایک معروف فوجی کمانڈر اور سیاست دان ہیں جنہوں نے 1981 سے 1997 تک سپاہ پاسداران کی کمانڈ کی اور پہلوی رجیم کے خلاف مزاحمت میں فعال کردار ادا کیا۔ اپنی تقرری کے بعد پہلے انٹرویو میں، انہوں نے کہا کہ ایران اس وقت تک آبنائے ہرمز کو دوبارہ نہیں کھولے گا جب تک امریکہ تین شرائط پوری نہیں کرتا: جنگ کا مکمل خاتمہ، منجمد اثاثوں کی رہائی، اور لبنان و غزہ پر مشتمل علاقائی جنگ بندی۔

ان شرائط کے نہ پورے ہونے کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں 5 فیصد اضافہ ہوا ہے اور برینٹ کروڈ 88 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز کی بندش جاری رہی تو تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل کو چھو سکتی ہیں، جس سے عالمی افراط زر اور معاشی ترقی پر منفی اثرات پڑیں گے۔

ہم امریکہ پر کبھی بھروسہ نہیں کرتے، امریکہ اور اسکے اتحادیوں کے لیے سنگین چیلنج کیا؟
رضائی نے مزید کہا: "ہم امریکہ پر کبھی بھروسہ نہیں کرتے، اور ہم اپنی قومی سلامتی اور اسٹریٹجک مفادات کے تحفظ کے لیے پوری طرح پرعزم ہیں۔ جب تک امریکہ اپنے رویے میں بنیادی تبدیلی نہیں لاتا اور ان شرائط کو قبول نہیں کرتا، آبنائے ہرمز بند رہے گا۔" انہوں نے یہ بھی کہا: "ایران کی طرف سے آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی تیل کی منڈیوں کو شدید متاثر کیا ہے اور امریکہ اور اس کے اتحادیوں پر غیر معمولی معاشی دباؤ ڈالا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ اس بندش کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے اور یہ اضافہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لیے ایک سنگین چیلنج ہے۔
شیئر کریں
تبصرے
ابھی کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے آپ لکھیں!
تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں
