مرکزی مواد پر جائیں

فارن پالیسی: صہیونی رجیم کا اگلا انتخاب تاریخ کا اہم ترین عمل ہو سکتا ہے

·۲۵ دن پہلے

فارن پالیسی میگزین میں شائع ہونے والے ایک تجزیے کے مطابق، قابض، جارح اور نسل پرست صہیونی رجیم اپنی تاریخ کے ایک اہم ترین انتخابی عمل کی طرف بڑھ رہی ہے۔ یہ انتخاب نہ صرف جاری جنگ اور فلسطینیوں کے ساتھ تنازع کی وجہ سے اہم ہے، بلکہ خود ریاست کی بنیادی نوعیت کے بارے میں ایک گہرے سوال کی وجہ سے بھی: کیا 'اسرائیل' ایک لبرل جمہوریت ہی رہے گا یا مزید قدامت پسند اور آمرانہ راستہ اختیار کرے گا؟

تجزیہ کار ڈیوڈ روزنبرگ کے مطابق، نتن یاہو کی 2022 میں واپسی ایک فیصلہ کن موڑ تھی۔ انہوں نے انتہائی دائیں بازو اور مذہبی جماعتوں کے ساتھ اتحاد بنایا اور دو اہم اہداف کا تعاقب کیا: عدلیہ کو کمزور کرنا اور مقبوضہ مغربی کنارے میں آبادکاروں کی حمایت کرنا۔ عدالتی اصلاحات کے منصوبے نے بڑے پیمانے پر احتجاج کو جنم دیا۔

سب سے خطرناک منظرنامہ یہ ہے کہ اگر (جنگی مجرم) نتن یاہو ہار گئے تو وہ انتخابی نتائج کو چیلنج کریں، جس سے جمہوری اداروں کو شدید خطرہ ہوگا۔

https://english.almanar.com.lb/article/114052/

شیئر کریں

WhatsAppFacebookTwitter / X

تبصرے

ابھی کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے آپ لکھیں!

تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں