اسرائیل کی بربریت: غزہ میں 8000 افراد کے اعضاء منقطع، بچے اور خواتین سب سے زیادہ متاثر، ہسپتال سربراہ کا خوفناک انکشاف
اعضاء منقطع ہونے کے ان ہزاروں واقعات کے باوجود، طبی سامان اور ماہر ٹیموں کی
شدید قلت صورتحال کو مزید خراب کر رہی ہے۔
غزہ کی پٹی میں امریکی حمایت یافتہ قابض و نسل پرست صہیونی رجیم کی جاری
جارحیت نے ایک سنگین طبی اور انسانی بحران کو جنم دیا ہے۔ حماد ری ہیبلیٹیشن
اینڈ مصنوعی اعضاء (پروتھیسز) ہسپتال کے سربراہ نے خوفناک انکشاف کیا ہے کہ
جنگ کے دوران اعضاء منقطع ہونے والوں کی تعداد ۸ ہزار (8000) تک پہنچ گئی ہے،
جس میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ یہ اعداد و شمار غزہ میں صحت کے نظام پر
پڑنے والے تباہ کن اثرات کو واضح کرتے ہیں۔
ہسپتال کے سربراہ کے مطابق، بچے کل کیسز کا تقریباً ۲۵ فیصد اور خواتین کا
تناسب ۱۲.۵ فیصد ہیں۔ اعضاء منقطع ہونے کے ان ہزاروں واقعات کے باوجود، طبی
سامان اور ماہر ٹیموں کی شدید قلت صورتحال کو مزید خراب کر رہی ہے۔ ہسپتال کے
سربراہ نے بین الاقوامی اور انسانی اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ متاثرین کی
بحالی، مصنوعی اعضاء کی فراہمی اور ضروری طبی خدمات کے لیے فوری اقدامات کریں۔
ہمیں واٹسپ پر جوائن کریں:
https://chat.whatsapp.com/Ikx9rjzpVtBFXQMOgFylGU
شیئر کریں
تبصرے
ابھی کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے آپ لکھیں!
تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں
