مرکزی مواد پر جائیں
ناریکاپ ٹی وی/پریس ریلیز، مقامی خبریں/پریس ریلیز، مقامی خبریں

یمن کے مظلوم مسلمانوں پر بمباری قبول نہیں: علامہ مقصود علی ڈومکی

·۷ دن پہلے

علامہ مقصود علی ڈومکی نے جیکب آباد میں یمن کے مظلوم مسلمانوں سے اظہارِ یکجہتی کے موقع پر کہا کہ پاکستان یمن کے خلاف جنگ میں فریق نہ بنے اور دو مسلمان ملکوں کی لڑائی میں ثالثی کا کردار ادا کرے۔ آئی ایس او ضلع جیکب آباد کے صدر برادر اظہار الحسن نے کہا کہ یمن کے مظلوم عوام سے اظہارِ یکجہتی ہمارا دینی اور انسانی فریضہ ہے.

🔹 جیکب آباد میں امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (آئی ایس او) کے زیرِ اہتمام مرکزی امام بارگاہ و جامع مسجد امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام سے یمن کے مظلوم مسلمانوں سے اظہارِ یکجہتی کے لیے احتجاجی جلوس نکالا گیا اور مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرے کی قیادت مجلس وحدت مسلمین سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی، آئی ایس او ضلع جیکب آباد کے صدر برادر اظہار الحسن، بزرگ شیعہ رہنما سید لعل شاہ بخاری، نثار احمد ابڑو، نظیر حسین جعفری اور دیگر رہنماؤں نے کی۔ شرکاء نے "الموت لأمریکا، الموت لإسرائیل" کے نعرے لگائے۔

🔹 مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ یمن کے مسلمان طویل عرصے سے جنگ، بمباری اور انسانی بحران کا سامنا کر رہے ہیں، اور یمن کے عوام فلسطین کے مظلوموں کے ساتھ کھڑے ہیں، اس لیے ان کے خلاف امریکا، اسرائیل اور آل سعود مل کر نفرت انگیز پروپیگنڈہ اور فوجی کارروائی کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو امریکی سازش کو سمجھنا ہو گا، ہمیں پاک فوج سے محبت ہے جو پاکستان کے عوام کی فوج ہے اور اس کا بنیادی فریضہ "وطن کا دفاع" ہے۔

🔹 انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کو کسی صورت یمن کے مظلوم عوام کے خلاف جنگ میں شریک نہیں ہونا چاہیے، اور حرمین شریفین کا مقدس نام استعمال کر کے آل سعود کے مجرمانہ کردار کی پشت پناہی قبول نہیں۔

🔹 انہوں نے حکومت پاکستان کو ایسے فیصلے سے گریز کی تلقین کی جس سے مسلم ممالک میں تصادم بڑھے اور پاکستان میں فرقہ واریت کو ہوا ملے۔ انہوں نے حکومت، عسکری قیادت اور وزارتِ خارجہ سے مطالبہ کیا کہ یمن کے معاملے پر قومی اسمبلی اور سینیٹ میں بحث کرائی جائے، پارلیمان کو اعتماد میں لیا جائے اور پاکستانی فوج کو یمن کے خلاف کسی جنگ کارروائی میں شریک نہ کیا جائے۔

🔹 اس موقع پر آئی ایس او ضلع جیکب آباد کے صدر برادر اظہار الحسن نے کہا کہ یمن کے مظلوم عوام سے اظہارِ یکجہتی ہمارا دینی اور انسانی فریضہ ہے، اور پاکستان کی نوجوان نسل یمنی مظلوم عوام کے ساتھ کھڑی ہے اور حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ پاکستان کو کسی نئی علاقائی جنگ کا حصہ بنانے کے بجائے امن اور انسانی امداد کے لیے مؤثر کردار ادا کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ انصار اللہ یمن اور حوثیوں نے ہمیشہ عشق رسول (ص) کے تقاضے پورے کیے ہیں، ان سے مکہ اور مدینہ منورہ کو کوئی خطرہ نہیں، اصل خطرہ امریکی پرکسی "اسرائیل" سے ہے۔ شرکاء نے یمن کے مظلوم عوام سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ پاکستان اپنی خارجہ پالیسی میں قومی مفاد، مسلم اتحاد اور علاقائی امن کو ترجیح دے۔

اس خبر پر آپ کا ردِعمل

شیئر کریں

WhatsAppFacebookTwitter / X

تبصرے

ابھی کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے آپ لکھیں!

تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں