کراچی میں جماعت اسلامی کا غزہ مارچ، فلسطین کی آزادی کا مطالبہ
پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کے دفاعی معاہدے کا پہلا کام "فلسطین کی آزادی" ہونا چاہیے، کراچی میں جماعت اسلامی کے زیرِ اہتمام "غزہ مارچ" میں ہزاروں افراد نے شرکت کی، جس سے امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن اور امیر کراچی منعم ظفر خان نے خطاب کیا، جبکہ غزہ کے مفتی اعظم ڈاکٹر محمد یوسف السبکی نے بھی شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے نیتن یاہو کو دہشت گرد قرار دیا اور مسجد اقصیٰ کی حفاظت کے لیے اتحاد پر زور دیا۔
🔹 غزہ مارچ کا انعقاد اور شرکاء
کراچی میں جماعت اسلامی کے زیرِ اہتمام اہلِ فلسطین سے اظہارِ یکجہتی کے لیے عظیم الشان غزہ مارچ منعقد ہوا، جس میں ہزاروں اہلیانِ کراچی، مرد، خواتین اور بچے شریک ہوئے۔ مارچ میں ویمن ونگ جماعت اسلامی پاکستان کی ڈپٹی سیکریٹری عطیہ نثار، ناظمہ صوبہ سندھ رخشندہ منیب، جاوداں فہیم اور دیگر رہنما خواتین بھی موجود تھیں۔ اس مارچ میں امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان، کراچی کے امیر منعم ظفر، محمد حسین محنتی، غزہ کے مفتی اعظم ڈاکٹر محمد یوسف السبکی سمیت فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان کے سکریٹری جنرل ڈاکٹر صابر ابو مریم بھی شریک تھے۔
🔹 غزہ کے مفتی اعظم کا خطاب
غزہ کے مفتی اعظم ڈاکٹر محمد یوسف السبکی نے شاہراہِ قائدین پر مارچ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن اور امیر کراچی منعم ظفر خان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے پوری دنیا میں نیتن یاہو کو دہشت گردی کرنے پر بے نقاب کیا، اور نیتن یاہو دہشت گرد ہے جو غزہ و فلسطین پر دہشت گردی کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اہل غزہ و فلسطین سے اظہار یکجہتی کے لیے اس طرح کے بڑے جلسوں سے انہیں تقویت ملتی ہے، غزہ و فلسطین میں ہر روز بمباری کی جاتی ہے، ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کو شہید کیا جارہا ہے، اور یہودیوں نے مسجد اقصی پر بھی قبضہ کرلیا ہے جو ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ بحیثیت مسلمان ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ مسجد اقصی کی حفاظت کے لیے متحد ہو جائیں۔
🔹 امیر کراچی کا خطاب
امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے مارچ کی قیادت کرتے ہوئے ہزاروں شرکاء سے خطاب کیا۔ انہوں نے کراچی کی ماؤں، بہنوں، بیٹیوں اور مرد و خواتین کو خراج تحسین پیش کیا جنہوں نے مختصر وقت میں بڑی تعداد میں مارچ میں شرکت کی، اور کہا کہ کراچی نے ثابت کردیا کہ اہل کراچی اہل غزہ کے دکھ اور غم میں برابر کے شریک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے مجاہدین نے اللہ کی نصرت سے طوفان الاقصی کا آغاز کیا اور اسرائیل و اسکی پشت پناہ قوتوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔
🔹 غزہ کی صورتحال پر تبصرہ
جماعت اسلامی کے رہنماؤں نے اس عظیم الشان مارچ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حماس و اہل غزہ نے ثابت کردیا کہ اللہ کی مدد سے کوئی چیز رکاوٹ نہیں بن سکتی، اور طوفان الاقصی نے 7 اکتوبر کو ناجائز رجیم اسرائیل کے غرور کو خاک میں ملادیا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے باضمیر انسان اہل غزہ و فلسطین کے ساتھ ہیں، اور اہل غزہ مسجد اقصی کی حفاظت کے لیے لازوال قربانیاں دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شہادتوں اور قربانیوں کے نتیجے میں پورے عالم میں فلسطین کی آواز گونج رہی ہے، پورے غزہ کو بارود کا ڈھیر بنادیا گیا ہے، کوئی مسجد، اسپتال، اسکول یا پناہ گاہ محفوظ نہیں، اور اہل غزہ صبر و استقامت کے ساتھ ڈٹے ہوئے ہیں اور پوری دنیا کے مسلمانوں کو پیغام دے رہے ہیں کہ تم نے بے غیرتی کو اختیار کیا ہے۔
🔹 اسلامی ممالک اور ذمہ داریوں پر زور
انہوں نے کہا کہ دلوں میں عزم اور اللہ پر بھروسہ ہوتا تو آج فلسطین ایسے حالات میں نہ ہوتا، 57 اسلامی ممالک موجود ہیں لیکن جذبہ ایمانی نہ ہونے کی وجہ سے غزہ کو ملیا میٹ کردیا گیا ہے، اور امریکہ کی ایماء پر مشرق وسطیٰ کو جنگ میں تبدیل کردیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں مظلوموں کے لیے کھڑا ہونا اور ظالموں کو للکارنے کا وقت ہے، ہماری ذمہ داری ہے کہ قبلہ اول کی آزادی کے لیے نکل کر کھڑا ہونا ہے، اور صہیونی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنا بھی ہماری ذمہ داری ہے۔
🔹 سروے اور دفاعی معاہدے پر تبصرہ
امیر جماعت حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حالیہ سروے کے مطابق امریکہ کے 81 فیصد نوجوان اسرائیل کے خلاف اور فلسطینیوں کے ساتھ ہیں، اور پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے دفاعی معاہدے کا پہلا کام فلسطین کی آزادی ہونا چاہیے۔
شیئر کریں
تبصرے
ابھی کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے آپ لکھیں!
تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں
