کرم ایجنسی کے عوام کو خوف و ہراس سے نجات دلائیں، امن دشمنوں کے خلاف کارروائی ہو، سینیٹر راجہ ناصر عباس جعفری کا پُرزور مطالبہ
سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے ضلع کرم میں مسلسل ہونے والے آئی ای ڈی دھماکوں اور ڈرون حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضلع کرم میں پہلے ہی آمدورفت کا بنیادی راستہ طویل عرصے سے بند ہے، جبکہ لوئر کرم، صدہ اور دیگر علاقوں میں دہشت گرد حملے ہو چکے ہیں۔ حالیہ ڈرون حملے میں خواتین اور بچوں کے زخمی ہونے کے واقعات کو انہوں نے انتہائی افسوسناک قرار دیا۔
"ضلع کرم میں مسلسل آئی ای ڈی دھماکوں اور ڈرون حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ امن دشمن عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی کی جائے اور عوام کی سہولت کے لیے بند مین روڈ کو فوری طور پر کھولا جائے۔"
سینیٹر نے کہا کہ یومِ آزادی جیسے قومی دن کے موقع پر پیواڑ اور ڈنڈر میں آئی ای ڈی دھماکوں کا ہونا انتہائی تشویش اور افسوس کا باعث ہے۔ مسلسل دہشت گردانہ کارروائیوں سے علاقے میں خوف و ہراس پیدا ہو رہا ہے، جس کا فوری تدارک ضروری ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ضلع کرم کے امن کو سبوتاژ کرنے والے عناصر کے خلاف بلاامتیاز اور مؤثر کارروائی کی جائے اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
انہوں نے حکومت سے عوامی مشکلات کے خاتمے کے لیے مین روڈ کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے فوری طور پر کھولنے کے اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے تجویز دی کہ اگر مین روڈ کھولنا ممکن نہیں تو سائیڈ شورکو روڈ کو ہنگامی بنیادوں پر تعمیر کرکے قابلِ استعمال بنایا جائے، تاکہ عوام کو آمدورفت کی سہولت میسر آ سکے۔ انہوں نے زور دیا کہ کرم کے عوام کو مزید مشکلات، خوف اور غیر یقینی کی کیفیت میں نہیں رکھا جا سکتا اور حکومت کی ذمہ داری ہے کہ علاقے میں پائیدار امن قائم کرنے کے ساتھ ساتھ عوام کے بنیادی سفری، معاشی اور انسانی مسائل کے فوری حل کے لیے عملی اقدامات کرے۔
شیئر کریں
تبصرے
ابھی کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے آپ لکھیں!
تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں
