مرکزی مواد پر جائیں
ناریکاپ ٹی وی/پریس ریلیز، مقامی خبریں/پریس ریلیز، مقامی خبریں

گلگت میں شیعہ نوجوانوں کی ماورائے عدالت گرفتاریوں کے خلاف بڑا احتجاجی مظاہرہ، حکومت کو پیر تک کی ڈیڈ لائن

·۹ دن پہلے

قائد گلگت بلتستان آقای سید راحت حسین الحسینی کی زیرِ قیادت شیعہ نوجوانوں کی ماورائے عدالت گرفتاریوں کے خلاف بڑا احتجاجی مظاہرہ ہوا، جس میں حکومت کو بروز پیر تک تمام گرفتار نوجوانوں کو رہا کرنے کی ڈیڈ لائن دی گئی اور علماء کرام نے اجتماعی گرفتاریوں کی دھمکی دی۔ بلتستان سے آغا سید باقر الحسینی نے بھی گلگت احتجاج کی بھرپور حمایت کا اعلان کردیا۔

🔶 احتجاجی ریلی کا انعقاد:

قائد گلگت و بلتستان حجت الاسلام سید راحت حسین الحسینی کی زیرِ سرپرستی شیعہ نوجوانوں کی ماورائے عدالت اور بلاجواز گرفتاریوں کے خلاف ایک بھرپور احتجاجی ریلی نکالی گئی، جس میں علماء، عمائدین اور ملتِ تشیع کے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

🔶 بے گناہ نوجوانوں کو فوری رہا کرنے اور ماضی کے سانحات کے ذمہ داروں کو گرفتار کرنے کا مطالبہ:

ریلی سے خطاب کرتے ہوئے آغا سید حسین رضوی نے گرفتاریوں کو ناقابلِ قبول قرار دیا اور تمام بے گناہ نوجوانوں کو فوری رہا کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے ماضی کے سانحات کے ذمہ داروں کو گرفتار کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔

🔶 ڈیڈ لائن اور دھمکی:

آقای سید راحت حسین الحسینی نے حکومت کو بروز پیر تک ڈیڈ لائن دیتے ہوئے کہا کہ اگر نوجوانوں کو رہا نہ کیا گیا تو تمام علماء کرام اجتماعی گرفتاریاں پیش کریں گے، جس کے بعد مزید سخت لائحہ عمل اپنایا جائے گا۔

🔶 مطالبات:

مقررین نے چھ نکاتی مطالبہ پیش کیا، جس میں تمام گرفتار نوجوانوں کی رہائی، غیر قانونی حراست کا خاتمہ، تشدد کی تحقیقات، مقدسات کی توہین کرنے والوں کی گرفتاری، ماضی کے سانحات کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹھرے میں لانا، اور امتیازی کارروائیوں کا خاتمہ شامل ہے۔

🔶 آقای سید باقر الحسینی کی گلگت احتجاج کی بھرپور حمایت، گلگت اور بلتستان دو قالب اور ایک جان:

اسکردو کی مرکزی امامیہ جامع مسجد میں جمعہ کے خطبے میں آقای سید باقر الحسینی نے گلگت احتجاج کی بھرپور حمایت کی اور تمام بے گناہ جوانوں کو فوری رہا کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر رہائی نہ ہوئی تو احتجاج کا دائرہ گنگنی سے گلگت تک وسیع کر دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ گلگت اور بلتستان دو قالب اور ایک جان ہیں۔

شیئر کریں

WhatsAppFacebookTwitter / X

تبصرے

ابھی کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے آپ لکھیں!

تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں