کربلا صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ ایک زندہ تحریک اور نظریہ ہے، مولانا مختار احمد امامی
پریس ریلیز، مقامی خبریں:
🔹 کراچی میں گذشتہ شب مجلس وحدت مسلمین ضلع شرقی، دعا کمیٹی پاکستان اور اہلیان سولجر بازار کے اشتراک سے شہادت امام حسن عسکریؑ اور اہل حرمؑ کی مدینہ واپسی کے سلسلے میں تین روزہ سالانہ مرکزی الوداعی مجالس عزا کا آغاز ہو گیا ہے۔ خراسان روڈ پر منعقدہ پہلی مجلس میں "کربلائے عصر اور ہماری ذمہ داریاں" کے عنوان سے مولانا مختار احمد امامی نے خطاب کیا۔
🔹 مولانا نے کہا کہ کربلا صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ ایک زندہ تحریک اور نظریہ ہے جو آج بھی اہل حق کے لیے مشعل راہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے راہ حق امام حسینؑ کے مشن کو آگے بڑھا رہے ہیں اور شہداء کا راستہ اگرچہ دشوار ہے مگر عزت کا راستہ ہے۔ امام حسینؑ کے حقیقی پیروکاروں کا شعار ہے کہ عزت کی موت ذلت کی زندگی سے بہتر ہے۔
🔹 مولانا نے کہا کہ امام حسینؑ کے ماننے والے آج بھی یزیدی قوتوں کے سامنے آواز بلند کر رہے ہیں، اور یزیدوں کے سامنے کھڑے ہونے کی قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ امام علیؑ کا راستہ سخت مگر باوقار ہے، جبکہ آسان راستے اپنانے والے آج سہمے اور ذلیل ہیں۔
"مولانا مختار احمد امامی نے کہا کہ کربلا صرف واقعہ نہیں بلکہ ایک زندہ تحریک ہے، جس کے حقیقی علمبردار شہدائے راہ حق ہیں، اور آج بھی یزیدیت کے راستے کو ہموار کرنے والے ہی باطل کو قوت دینے کے اصل ذمہ دار ہیں۔"
🔹 انہوں نے زور دیا کہ دین اسلام امام حسینؑ کی قربانیوں کے ذریعے ہم تک پہنچا ہے، ورنہ امامؑ کے لیے آسان راستہ خاموشی اختیار کرنا تھا، لیکن انہوں نے مشکل ترین راستے کا انتخاب کیا اور قیام کیا۔ انہوں نے کہا کہ جب انبیاءؑ نے کسی ظالم کی بیعت نہیں کی تو وارث انبیاءؑ باطل کی بیعت کیسے کر سکتے ہیں۔
🔹 مولانا نے اصل قصور واروں کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ وہ لوگ جو ماضی میں یزید کو راستہ دیا اور آج جو یزیدیت کی راہ ہموار کر رہے ہیں، وہی باطل کو قوت دینے کے اصل ذمہ دار ہیں۔
🔹 مجلس میں متعدد شخصیات نے شرکت کی جن میں دعا کمیٹی کے رہنما ناصر حسین الحسینی، نذر عباس، ضامن بھائی، مجلس وحدت مسلمین ضلع شرقی کے صدر فدا حسین، سوشل میڈیا سیکریٹری رضوان پنجوانی اور دیگر شامل تھے۔ مجلس کا آغاز تلاوت کلام پاک، حدیث کساء، سوز خوانی، سلام، مرثیہ اور نوحہ خوانی سے ہوا۔
شیئر کریں
تبصرے
ابھی کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے آپ لکھیں!
تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں
